تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 42
وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ع﴿42﴾
- وَقَالَاور کہا
- لِلَّذِيْاس سے جس
- ظَنَّاس نے گمان کیا
- اَنَّهٗکہ بیشک وہ
- نَاجٍبچے گا وہ
- مِّنْهُمَاان دونوں سے
- اذْكُرْنِيْمیرا ذکر کرنا
- عِنْدَپاس
- رَبِّكَاپنا مالک
- فَاَنْسٰىهُپس اس کو بھلا دیا
- الشَّيْطٰنُشیطان
- ذِكْرَ رَبِّهٖاپنے مالک سے ذکر کرنا
- فَلَبِثَتو رہا
- فِي السِّجْنِقید میں
- بِضْعَ سِنِيْنَچند برس
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس کے بارے میں اس نے خیال کیا کہ وہ چھوٹ جانے والا ہے اس سے اس نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کیجیو۔ تو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا پس وہ جیل خانہ میں کوئی سال پڑا رہا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ ۡ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ۔
جائز مقصد کے لیے جائز تدبیر : وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ۔ ان دونوں میں سے ایک سے جس کی نسبت حضرت یوسف کو اس کے خواب کی بنا پر گمان تھا کہ وہ جیل سے چھوٹ جائے گا، حضرت نے یہ خواہش کی کہ اگر کوئی مناسب موقع پیدا ہو تو اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا۔ آقا سے مراد یہاں بادشاہ ہے اس لیے کہ وہ، جیسا کہ اوپر گزرا، بادشاہ کا ساقی تھا۔ ذکر سے مراد ظاہر ہے کہ ان ہی باتوں کا ذکر ہے جو جیل کی اس معیت کے دوران میں اس کے اپنے علم و مشاہدہ میں آئی تھیں۔ خاص طور پر خواب کی تعبیر کے معاملے کا ذکر جو ایک اہم واقعہ بھی تھا اور بادشاہوں کے دربار میں اس طرح کے معاملات آئے دن پیش آتے بھی رہتے ہیں۔ حضرت یوسف نے اس خواہش کا اظہار اس توقع کی بنا پر کیا ہوگا کہ جہاں داد فریاد اور عدل و انسآف کے سارے دروازے بند ہیں، شاید اسی راہ سے اس مظلومانہ قید سے چھوٹنے کی کوئی شکل پیدا ہو۔ کسی جائز مقصد کے لیے جائز تدابیر و وسائل کا اختیار کرنا توکل اور اعتماد علی اللہ کے منافی نہیں ہے۔ توکل کے منافی یہ ہے کہ آدمی حالات سے دل شکستہ ہو کر ناجائز تدابیر کے اختیار کرنے پر اتر آئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول بندہ وہ نہیں ہے جو توکل کے نام پر ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہے بلکہ وہ ہے جو کارزارِ حیات میں اترے، وسائل و تدابیر سے کام لے، اسباب و ذرائع کو استعمال کرے لیکن ہر گام پر خدا کے حدود وقیود کا احترام وپرا پورا ملحوظ رکھے۔ یہی وہ اصلی امتحان ہے جس کے لیے خدا نے خلق کو پیدا کیا ہے اور جو اس دنیا کے وجود کی غایت ہے۔
تقدیر الٰہی کا فیصلہ : فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ۔ ذکر ربہ، میں اضافت کی وعیت وہی ہے جو مکر اللیل والنہار، وغیرہ میں ہے۔ یعنی جیل سے چھوٹنے والا غلام اپنے آقا یعنی بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس بھول جانے کو شیطان کی طرف منسوب فرمایا ہے اس لیے کہ کسی نیکی کے کام سے غافل کرن شیطان ہی کا کام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تدابیر وسائل کو اختیار کرنا تو انسان کے فرائض میں سے ہے لیکن ان تدابی وسائل کا بروئے کار آنا اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی حکمت پر منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ ابھی حضرت یوسف کچھ سال اور جیل ہی میں گزاریں۔ چناچہ یہ بات یوں پوری ہوگئی کہ حضرت یوسف کا جیل سے چھوٹنے والا ساتھی جیل سے باہر آ کر بالکل یاد نہ رکھ سکا کہ زندان کے ساتھ نے اس سے کیا بات کہی۔