تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 43
وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ﴿43﴾
- وَقَالَاور کہا
- الْمَلِكُبادشاہ
- اِنِّىْٓکہ وہ
- اَرٰيمیں دیکھتا ہوں
- سَبْعَسات
- بَقَرٰتٍگائیں
- سِمَانٍموٹی تازی
- يَّاْكُلُهُنَّوہ کھاتی ہیں
- سَبْعٌسات
- عِجَافٌدبلی پتلی
- وَّسَبْعَاور سات
- سُنْۢبُلٰتٍخوشے
- خُضْرٍسبز
- وَّاُخَرَاور دوسرے
- يٰبِسٰتٍخشک
- يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُاے میرے سردارو
- اَفْتُوْنِيْبتلاؤ مجھے تعبیر
- فِيْمیں (کی)
- رُءْيَايَمیرے خواب
- اِنْاگر
- كُنْتُمْہو تم
- لِلرُّءْيَاخواب کی
- تَعْبُرُوْنَتعبیر دینے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیں ہیں اور دوسری سات خشک۔ اے درباریو، میرے رویا کی مجھے تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۭ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ۔
بادشاہ کا خواب : جب اللہ تعالیٰ کسی بات کو چاہتا ہے تو خواہ وہ کتنی بعید از قیاس ہو اس کے اسباب خود بخود پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اس دوران میں خود بادشاہ نے ایک خواب دیکھا کہ سات فربہ گائیں ہیں، سات دبلی، اور یہ دبلی گائیں فربہ گایوں کو نگلے جا رہی ہیں۔ اسی طرح سات سبز بالیاں ہیں اور دوسری سات خشک اور یہ سات خشک بالیاں ساتوں سبز بالیوں کو کھا رہی ہیں۔ بادشاہ کو یہ خواب بڑی اہمیت رکھنے والا محسوس ہو، چناچہ اس نے اپنے درباریوں کو یہ خواب سنایا اور ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ خوابوں کی تعبیر کرتے ہیں تو ذرا میرے اس خواب کی تعبیر بتائیے۔ بادشاہ کے اس آخر فقرے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اس کی نظر میں اس خواب کی بڑی اہمیت تھی اور وہ یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ اس کی تعبیر بتانا ان لال بجھکڑوں کے لیے کچھ آسان نہیں ہے۔
آیت میں " واخر یٰبِسٰت " کے بعد " یاکلٰن " کا لفظ محذوف ہے۔ قرینہ کی موجودگی کے سبب سے اس کو حذف کردیا گیا ہے۔ آگے آیت 48 میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔