تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 44
قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ﴿44﴾
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اَضْغَاثُپریشان
- اَحْلَامٍخواب
- وَمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- بِتَاْوِيْلِتعبیر دینا
- الْاَحْلَامِخواب (جمع)
- بِعٰلِمِيْنَجاننے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے یہ خواب پریشان ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر کے عالم نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْن۔
درباریوں کا جواب : " ضغث " خس و خاشاک کے گٹھے کو کہتے ہیں۔ اسی کی جمع " اضغاث " ہے جو بےحقیقت باتوں اور خبروں کے مجموعہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ پھر اسی سے " اضغاث احلام " کی ترکیب پیدا ہوگئی جس سے مراد وہ خواب پریشان ہوتے ہیں، جو یوں ہی تبخیر معدی یا کسی اور باعث سے نظر آجاتے ہیں، ان کے اندر کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔
دربار کے معبّروں نے یہ فقہ کہہ کر اول تو بادشاہ کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی کہ جہاں پناہ اس خواب کی زیادہ فکر نہ کریں، یہ خواب پریشان کی نوعیت کی چیز ہے، اس طرح کے خوابوں کے اندر کوئی تعبیر نہیں ہوتی اور ساتھ ہی اپنا بھرم بھی قائم رکھنے کی کوشش کی کہ ہمارا کام بامعنی خوابوں کی تعبیر بتانا ہے نہ کہ خواب ہائے پریشان کی۔