تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 6
وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿6﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- يَجْتَبِيْكَچن لے گا تجھے
- رَبُّكَتیرا رب
- وَيُعَلِّمُكَاور سکھائے گا تجھے
- مِنْسے
- تَاْوِيْلِانجام نکالنا
- الْاَحَادِيْثِباتیں
- وَيُتِمُّاور مکمل کرے گا
- نِعْمَتَهٗاپنی نعمت
- عَلَيْكَتجھ پر
- وَاور
- عَلٰٓيپر
- اٰلِ يَعْقُوْبَیعقوب کے گھر والے
- كَمَآجیسے
- اَتَمَّهَااس نے اسے پورا کیا
- عَلٰٓيپر
- اَبَوَيْكَتیرے باپ دادا
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
- وَاِسْحٰقَاور اسحق
- اِنَّبیشک
- رَبَّكَتیرا رب
- عَلِيْمٌعلم والا
- حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت تمام کی۔ بیشک تمہارا رب بڑا ہی علیم و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔
حضرت یعقوب نے جب خواب سنا تو چونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نبوت کا آغاز رویائے صادقہ ہی سے ہوتا ہے اور اس خواب کا ظاہر ہی بتا رہا تھا کہ یہ سچا خواب ہے اور خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شان دار مستقبل کی پیشین گوئی کررہا ہے اس وجہ سے انہوں نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے ٹھیک ہے۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ، میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو اس بات کی طرف کہ اس رویا کی حقیقت اللہ تعالیٰ خود تم پر واضح فرمادے گا۔ چناچہ جب اس کی حقیقت حضرت یوسف نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تو فرمایا " يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔ رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : اے میرے باپ یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس کو حقیقت کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بڑا ہی کرم فرمایا جب کہ مجھے قید خانہ سے باہر نکالا اور آپ لوگوں کو بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، دیہات سے یہاں لایا، میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کو نہایت خوبی سے کر دکھاتا ہے، وہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بھی عطا فرمائی اور رویا کی تعبیر بھی بتائی "
تعبیر رویا کا علم : دوسری یہ کہ رویا چونکہ علوم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور رویا میں حقائق مجاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ایک خاص ذہنی مناسبت کا مقتضی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور ایک خاص علم بھی عطا فرماتا ہے۔ حضرت یعقوب نے جب محسوس فرما لیا کہ اس رویا میں حضرت یوسف کے لیے نبوت کی بشارت ہے تو ساتھ ہی ان پر یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اب حضرت یوسف کو تعبیر رویا کا علم بھی عطا ہوگا تاکہ رویا کی شکل میں جو حقائق ان پر وارد ہوں ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر وہ منشائے خداوندی کی تعمیل کرسکیں۔ چناچہ آگے اسی سورة میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم میں ان کا درجہ اتنا بلند کیا کہ بالآخر یہی علم ان کے لیے مصر کی بادشاہی کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔
صل نعمت دین و شریعت ہے : وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ۔۔ الایۃ۔ نعمت سے مراد دین و شریعت کی نعمت ہے۔ دنیا کی دوسری چیز کا نعمت ہونا ایک امر اضافی ہے۔ جب بندے کو دین و شریعت کی نعمت ملتی ہے تب ہی نعمت کامل ہوتی ہے۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق کا اپنی نعمت سے نوازا اسی طرح وہ تم کو اور آل یعقوب کو بھی اس نعمت سے نوازے گا اور تم نے جو رویا دیکھی ہے وہ اسی اتمام نعمت کی بشارت ہے۔ اللہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔