Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 55

  1. قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ﴿55﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. اجْعَلْنِيْمجھے کردے
    3. عَلٰيپر
    4. خَزَآئِنِخزانے
    5. الْاَرْضِزمین (ملک)
    6. اِنِّىْبشیک میں
    7. حَفِيْظٌحفاظت کرنیوالا
    8. عَلِيْمٌعلم والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا مجھے ملک کے ذرائع آمدنی پر مامور کیجیے، میں متدین بھی ہوں اور باخبر بھی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ۔ حضرت یوسف کی تجویز : " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مصر اور " خزائن " سے مراد ملک کے ذرائع پیداوار ہیں۔ چونکہ اس وقت سب سے بڑی مہم ملک کو پیش آنے والے قحط میں سنبھالنے کی تھی اس وجہ سے حضرت یوسف نے فرمایا کہ ملک کے تمام ذرائع پیداوار کا اہتمام و انصرام میرے سپرد کردیجیے، میں پوری احتیاط سے ہر چیز کی حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے علم بھی رکھتا ہوں۔ یہ واضح رہے کہ حضرت یوسف کی طرف سے کوئی درخواست نہیں تھی بلکہ خود بادشاہ کی پیشکش قبول کرنے اور اس کو بروئے کار لانے کے لیے ان کو جو شکل مناسب معلوم ہوئی وہ انہوں نے اس کے سامنے رکھ دی اور ساتھ ہی یہ بات بھی ظاہر فرمادی کہ اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے جس دیانت اور علم کی ضرورت ہے وہ میں اپنے اندر پاتا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے توقع رکھتا ہوں کہ اس کام کو بحسن و خوبی انجام دے سکوں گا۔ حضرت یوسف کی یہ تجویز عین بادشاہ کی آرزو کے مطابق تھی اس وجہ سے وہ مطمئن ہوگیا اور اس طرح مصر کی سلطنت گویا حضرت یوسف ؑ کے انگوٹھے کے نیچے آگئی۔ تورات میں ہے کہ پھر فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں نے تجھے ساری زمین مصر پر حکومت بخشی اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف کے ہاتھ میں پہنا دی۔ تب اس کے آگے منادی کی گئی، سب ادب سے رہو اور اس نے اسے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور یوسف کو کہا، میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ یا پاؤں نہ اٹھائے گا۔ (پیدائش۔ 41۔ 44)