تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 56
وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿56﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- مَكَّنَّاہم نے قدرت دی
- لِيُوْسُفَیوسف کو
- فِي الْاَرْضِزمین میں (ملک پر)
- يَتَبَوَّاُوہ رہتے
- مِنْهَااس سے (میں)
- حَيْثُجہاں
- يَشَآءُوہ چاہتے
- نُصِيْبُہم پہنچا دیتے ہیں
- بِرَحْمَتِنَااپنی رحمت سے
- مَنْ نَّشَآءُجس کو ہم چاہتے ہیں
- وَلَا نُضِيْعُاور ہم ضائع نہیں کرتے
- اَجْرَبدلہ
- الْمُحْسِنِيْنَنیکی کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک اقتدار بخشا اوہ اس میں جہاں چاہے متمکن ہو۔ ہم اپنے فضل سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں اور ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
56۔ 57:۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ۔ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کا کلی اقتدار : اس طرح حضرت یوسف ؑ کو پورے ملک مصر میں عملاً وہ تمام اختیار و اقتدار حاصل ہوگیا جو بادشاہ کو حاصل تھا۔ نام تو بادشاہ کا ضرور باقی رہا۔ لیکن اپنے اختیارات اس نے سارے حضرت یوسف کو تفویض کردیے۔ یتبوء منہا حیث یشاء۔ یعنی وہ جہاں چاہیں فروکش ہوں، جس حصہ ملک کا چاہیں دورہ کریں، جہاں جو نظم و نسق ضرور سمجھیں اس کے لیے احکام صادر فرمائیں۔ حکومت کے عمال کا فرض تھا کہ بےچون و چرا ان کے احکام کی تعمیل کریں۔
اللہ کا معاملہ خوب کاروں کا ساتھ : نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ میں دو حقیقتیں واضح فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمام اختیار و اقتدار خدا ہی کو حاصل ہے۔ وہ اگر کسی کو اپنے فضل و رحمت سے نوازنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ وہ جب چاہے ایک قیدی کو زنداں سے نکالے اور اس کو ملک کے تخت حکومت پر لا بٹھائے۔ یہ اس کی قدرت و مشیت کا ایک ادنی کرشمہ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ محسنین یعنی خو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ان کو آزمائشیں ضروری پیش آتی ہیں، اگر وہ ان آزمائشوں میں خدا کی راہ پر استوار اور ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں بھی ان کا صلہ دیتا ہے اور آخرت میں بھی وہ اس کا صلہ پائیں گے۔ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ ، یعنی آخرت کا اجر اس دنیا کے اجر سے کہیں ڑھ کر ہے جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو ایمان پر ثابت قدم اور خدا کے حدود وقیود کی خلاف ورزی سے بچتے رہیں۔