تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 58
وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ﴿58﴾
- وَجَآءَاور آئے
- اِخْوَةُبھائی
- يُوْسُفَیوسف
- فَدَخَلُوْاپس وہ داخل ہوئے
- عَلَيْهِاس کے پاس
- فَعَرَفَهُمْتو اس نے انہیں پہچان لیا
- وَهُمْاور وہ
- لَهٗاس کو
- مُنْكِرُوْنَوہ نہ پہچانے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یوسف کے بھائی آئے اور اس سے ملے۔ اس نے تو ان کو پہچان لیا پر وہ اس سے نا آشنا ہی رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۔
برادرانِ یوسف کی حاضری : حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا یہ آنا، جیسا کہ آگے کی آیت میں وضاحت ہے، غلہ لینے کی غرض سے تھا۔ یعنی یہ ساتھ سال بعد اس زمانے کی بات ہے جب مصر اور اس سے ملحقہ ممالک فلسطین و شامل وغیرہ سب قحط کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ یہ قحط تو مصر میں بھی تھا لیکن حضرت یوسف کی پیش بندی اور ان کے حسن انتطام کی بدولت مصر نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہا بلکہ وہاں پاس پڑوس کے ملکوں سے آنے والے ضرورت مندوں کو بھی ایک معین مقدار میں سرکاری ڈپو سے غلہ خریدنے کی اجازت تھی۔ چناچہ غلہ ہی حاصل کرنے کی غرض سے حضرت یوسف کے بھائی مصر آئے اور معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی ہونے کی وجہ سے انہیں خاص اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے حضرت یوسف کے سامنے بھی حاضر ہونا پڑا۔ اس حاضری کے وقت حضرت یوسف نے تو ان کو ہپچان لیا لیکن یہ لوگ ان کو نہ پہچان سکے۔ نہ پہچان سکنے کی وجہ ظاہر ہے کہ اول تو انہوں نے جس وقت انہیں کنوئیں میں پھینکا تھا اس پر کم و بیش بیس اکیس سال کا زمانہ گزر چکا تھا، اتنے طویل عرصے میں آدمی کی شکل و صورت بہت کچھ تدبیل ہوجاتی ہے۔ پھر بالفرض چہرے بشرے میں انہوں کچھ جھلک محسوس بھی کی ہو، جیسا کہ آگے آیت 90 سے اشارہ نکلتا ہے تو آخر وہ یہ گمان کس طرح کرسکتے تھے کہ جس بھائی کو انہوں نے اندھے کنوئیں میں ڈالا تھا وہ آج مصر کے تخت حکومت پر متمکن ہے۔