Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 59

  1. وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ﴿59﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. جَهَّزَهُمْجب انہیں تیار کردیا
    3. بِجَهَازِهِمْان کا سامان
    4. قَالَکہا اس نے
    5. ائْتُوْنِيْلاؤ میرے پاس
    6. بِاَخٍبھائی
    7. لَّكُمْتمہارا (اپنا)
    8. مِّنْ اَبِيْكُمْتمہارے باپ سے
    9. اَلَا تَرَوْنَکیا تم نہیں دیکھتے
    10. اَنِّىْٓکہ میں
    11. اُوْفِيپورا کرتا ہوں
    12. الْكَيْلَپیمانہ
    13. وَاَنَااور میں
    14. خَيْرُبہترین
    15. الْمُنْزِلِيْنَاتارنے والا (مہمان نواز)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب اس نے ان کا سامان تیار کردیا کہا کہ اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لائیو۔ دیکھتے ہونا کہ میں غلہ بھی پورے پیمانہ سے دیتا ہوں اور بہترین میزبانی کرنے والا بھی ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
59۔ 60:۔ وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ. فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْن۔ بھائیوں کو حضرت یوسف کی ہدایت : ان کا سامان ٹھیک ٹھاک کرادینے کے بعد حضرت یوس نے ان کو ہدایت فرمائی اب کے غلہ لینے آئیوں تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لائیو۔ معلوم ہوتا ہے کہ راشننگ سسٹم نافذ ہونے کے سبب سے ہر ضرور مند کو بحساب افراد خاندان ملتا تھا اس وجہ سے انہیں یہ بتانا پڑا ہوگا کہ ہمارا ایک سوتیلا بھائی بھی گھر پر ہے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ اب کے آتا تو اس کو بھی ساتھ لانا۔ اس کے لیے انہیں ترغیب بھی دی اور ساتھ ہی دھمکی بھی۔ ترغیب یہ کہ دیکھو میں ہر فرد کے حصہ کا غلہ پورا پورا دیتا ہوں۔ " کیل " کے معنی تو پیمانہ کے ہیں لیکن جس طرح ظرف بول کر کبھی مظروف مراد لیتے ہیں اسی طرح اس سے یہاں مراد غلہ ہے ل۔ مطلب یہ کہ اپنے بھائی کو لاؤ گے تو اس کے حصہ کا غلہ بھی پورا پورا پاؤ گے اور یہ تجربہ تو تم کر ہی چکے ہو کہ میں آنے والوں کی نہایت بہتر طریقہ پر میزبانی کرتا ہوں۔ دھمکی یہ دی کہ اگر تم اپنے بھائی کو نہ لائے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا۔