Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 65

  1. وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ﴿65﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. فَتَحُوْاانہوں نے کھولا
    3. مَتَاعَهُمْاپنا سامان
    4. وَجَدُوْاانہوں نے پائی
    5. بِضَاعَتَهُمْاپنی پونجی
    6. رُدَّتْواپس کردی گئی
    7. اِلَيْهِمْان کی طرف (انہیں)
    8. قَالُوْابولے
    9. يٰٓاَبَانَااے ہمارے ابا
    10. مَا نَبْغِيْکیا چاہتے ہیں ہم
    11. هٰذِهٖیہ
    12. بِضَاعَتُنَاہماری پونجی
    13. رُدَّتْلوٹا دی گئی
    14. اِلَيْنَاہماری طرف
    15. وَنَمِيْرُاور ہم غلہ لائینگے
    16. اَهْلَنَااپنے گھر
    17. وَنَحْفَظُاور ہم حفاظت کرینگے
    18. اَخَانَااپنا بھائی
    19. وَنَزْدَادُاور زیادہ لیں گے
    20. كَيْلَبوجھ
    21. بَعِيْرٍایک اونٹ
    22. ذٰلِكَیہ
    23. كَيْلٌبوجھ (غلہ)
    24. يَّسِيْرٌآسان (تھوڑا)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی پونجی بھی ان کو لوٹا دی گئی ہے۔ بولے ابّا جان ! اب ہمیں کیا چاہیے، یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے، اب ہم جائیں گے، اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لائیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے، ایک بار شتر غلہ زیادہ حاصل کریں گے ! یہ غلّہ تو تھوڑا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ ۭهٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ. بیٹوں کی مسرت : جب ان لوگوں نے اپنا سامان کھولا اور یہ دیکھا کہ جو رقم انہوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کی تھی وہ پوری کی پوری ان کی غلہ کی بوریوں میں موجود ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ بولے کہ اباجان ! اب کی ا چاہیے، یہ دیکھیے کہ ہماری رقم بھی ہم کو لوٹا دی گئی ہے۔ اب ہم جائیں گے، اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے، ایکِ بار شتر غلہ ہم مزید حاصل کریں گے، یہ غلہ جو ہم لائے یہ تو تھوڑا ہے۔ قرآن کی بلاغت کے قربان جائیے کہ اس نے ان کی بات اس طرح نقل کیا ہے کہ ان کی خوشی ان کے فقرے فقرے سے ابلی پڑتی ہے۔ " ونمیر اھلنا " کا معطوف علیہ یہاں قرینہ کی وضاحت کے سبب سے محذوف ہے ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ مار، یمیر، میرا کے معنی اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ اور ضرورت کی چیزیں فراہم کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب رقم واپس مل جانے کے بعد ہماری راہ میں کیا رکاوٹ باقی رہی، اب تو ہم ضرور ہی جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے۔ " کیل بعیر " سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت یوسف ؑ نے جو راشننگ سسٹم جاری کیا تھا اس میں بیرونی ضرورت مندوں کو ایک بارشتہ غلہ حاصل کرنے کی اجازت تھی