Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 67

  1. وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ﴿67﴾

    1. وَقَالَاور اس نے کہا
    2. يٰبَنِيَّاے میرے بیٹو
    3. لَا تَدْخُلُوْاتم نہ داخل ہونا
    4. مِنْسے
    5. بَابٍ وَّاحِدٍایک دروازہ
    6. وَّادْخُلُوْااور داخل ہونا
    7. مِنْسے
    8. اَبْوَابٍدروازے
    9. مُّتَفَرِّقَةٍجدا جدا
    10. وَمَآ اُغْنِيْاور میں نہیں بچا سکتا
    11. عَنْكُمْتم سے (کو)
    12. مِّنَسے (کی)
    13. اللّٰهِاللہ
    14. مِنْ شَيْءٍکیس چیز (بات) سے
    15. اِنِنہیں
    16. الْحُكْمُحکم
    17. اِلَّاسوا
    18. لِلّٰهِاللہ کا
    19. عَلَيْهِاس پر
    20. تَوَكَّلْتُمیں نے بھرسہ کیا
    21. وَعَلَيْهِاور اس پر
    22. فَلْيَتَوَكَّلِپس چاہیے بھروسہ کریں
    23. الْمُتَوَكِّلُوْنَبھروسہ کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے ہدایت کی کہ اے میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا، الگ الگ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں اللہ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا اختیار تو بس اللہ ہی کا ہے۔ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۭ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۔ " ما اغنی عنکم " یعنی میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا، تمہیں کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ ایک مصلحت آمیز ہدایت : چونکہ قحط کا زمانہ تھا جس میں چوری، ڈکیتی اور اس نوع کے دوسرے جرائم کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اس وجہ سے حضرت یعقوب نے ان کو رخصت کرتے وقت یہ ہدایت فرمائی کہ شہر میں جب داخل ہونا تو ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قدیم زمانے میں بیرونی حملوں سے حفاظت کے لیے ہر قابل ذکر شہر کے گرداگرد فصیل اور ہر سمت سے داخل ہونے کے لیے معین دروازے ہوتے تھے۔ حضرت یعقوب نے یہ ہدایت ممکن ہے اس اندیشہ سے فرمائی ہو کہ کہیں یہ لوگ شہر کے شریروں اور گنڈوں کی توفہ کا ہدف نہ بن جائیں۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی دروازے سے گیارہ ذی وجاہت، خوش شکل اور باوقات بھائیوں کا اپنے قافلہ سمیت شہر میں داخل ہونا ایک جالب توجہ چیز ہوسکتی تھی اور اس کا بھی امکان تھا کہ کچھ شریر لوگ ان کے پیچھے لگ جائیں کہ ان کے پاس مال زیادہ ہوگا اور اس طمع میں وہ ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائیں۔ اس ہدایت کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ تنبیہ فرمادی کہ یہ ایک تدبیر ہے جس کو اپنی دانست میں بہتر سمجھ کر میں تمہیں اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اس تدبیر کو ہرگز ہرگز اس معنی میں نہ لینا کہ یہ تمہیں اس تقدیر سے بچاسکے گی جو خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے۔ وہ اپنی جگہ پر اٹل ہے۔ اصلی اختیار خدا ہی کا ہے۔ میں نے اس پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔