Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 68

  1. وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿68﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
    3. مِنْ حَيْثُجہاں سے
    4. اَمَرَهُمْانہیں حکم دیا
    5. اَبُوْهُمْان کا باپ
    6. مَا كَانَنہیں تھا
    7. يُغْنِيْوہ بچا سکتا
    8. عَنْهُمْان سے (انہیں)
    9. مِّنَسے (کی)
    10. اللّٰهِاللہ
    11. مِنْسے
    12. شَيْءٍکسی چیز (بات)
    13. اِلَّامگر
    14. حَاجَةًایک خواہش
    15. فِيْمیں
    16. نَفْسِدل
    17. يَعْقُوْبَیعقوب
    18. قَضٰىهَاوہ اسنے پوری کرلی
    19. وَاِنَّهٗاور بیشک وہ
    20. لَذُوْ عِلْمٍصاحب علم
    21. لِّمَااس کا جو
    22. عَلَّمْنٰهُہم نے اسے سکھایا
    23. وَلٰكِنَّاور لیکن
    24. اَكْثَرَاکثر
    25. النَّاسِلوگ
    26. لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو ہدایت کی تھی تو وہ اللہ کے مقابل میں ان کے کچھ کام آنے والا نہ تھا۔ بس یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے پورا کرلیا اور وہ بیشک اس علم سے بہرہ ور تھا جو ہم نے اس کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ ۭ مَا كَانَ يُغْنِيْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰىهَا ۭ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق : اب یہ تدبیر اور تقدیر کے باہمی تعلق کو واضح فرما دیا گیا کہ بیٹوں نے شہر میں داخل ہونے کے باب میں باپ کے مشورے پر جو عمل کیا تو یہ محض حالات وقت کے پیش نظر ایک تدبیر تھی جس کی ضرورت کا احساس باپ کے دل میں پیدا ہوا اور اس نے انہیں اس کے اختیار کرنے کی ہدایت کردی جو ان کے لیے مفید و بابرکت ثابت ہوئی۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ اگر ان کی تقدیر میں کوئی آفت آنی لکھی ہوئی ہوتی تو اس تدبیر سے وہ اس سے بھی بچ جاتے۔ تقدیر بہرحال اٹل ہے جس کو کسی کی تدبیر نہیں بدل سکتی۔ لیکن اس کے باوجود انسان کا فرض ہے کہ وہ حالات و مصالح کے مطابق تدابیر اختیار کرے۔ اس میں اس کے ارادے اور سعی و عمل کا امتحان ہے اور اسی پر آخرت میں اس کے درجے اور مرتبے کا انحصار۔ اس وجہ سے کسی کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تقدیر کے نام پر اپنے ہاتھ پاؤں توڑ کے بیٹھ رہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے حدود کے اندر تدابیر اختیار کرے، ان کو بروئے کار لانے کے لیے اپنے امکان بھر جدوجہد کرے اور ساتھ ہی یہ یقین رکھے کہ ہوگا وہی جو اللہ کی مشیت میں ہے۔ اللہ کے فیصلہ کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ۔۔۔ الایۃ، یہ حضرت یعقوب کی تعریف و تحسین ہے کہ وہ تدبیر و تقدیر کے معاملے میں اس علم سے بہرہ مند تھے جو اللہ نے ان کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ ان کی حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ وہ یا تو تدبیر ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں، تقدیر ان کے ہاں ایک واہمہ ہے، یا پھر تقدیر و توکل کے نام پر وہ بالکل اپاہج بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔