تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 7
لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿7﴾
- لَقَدْ كَانَبیشک میں
- فِيْمیں
- يُوْسُفَیوسف
- وَاِخْوَتِهٖٓاور اس کے بھائی
- اٰيٰتٌنشانیاں
- لِّلسَّآئِلِيْنَپوچھنے والوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون۔ آیات نمبر 7 تا 22:
حضرت یوسف ؑ کی سرگزشت : اوپر کی تمہید کے بعد اب آگے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کی اصل سرگزشت شروع ہوتی ہے چونکہ اس سگرگزشت کے سنانے سے اصل مقصود داستان سرائی نہیں بلکہ ان بہت سے سوالوں کا جواب دینا تھا جو اس دور میں اپنوں اور بیگانوں دونوں ہی کے ذہنوں کے اندر نبی ﷺ اور آپ کی دعوت سے متعلق پیدا ہو رہے تھے اس وجہ سے ابتداء ہی میں متنبہ کردیا کہ لقد کان فی یوسف واخوتہ ایات للسائلین (یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں)۔ یعنی جو لوگ اس الجھن میں ہیں کہ آگے کیا ہوگا اور کس طرح ہوگا وہ اپنے اس طرح کے سوالوں کے جواب اس سرگزشت میں پا لیں گے۔ پھر پیرے کے آخر میں فرمایا کہ واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ اللہ اپنی اسکیم کو بروئے کار لانے پر پوری طرح حاوی ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ۔
سرگزشت سے پہلے ایک تنبیہ : یہ آیت، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، اصل سرگزشت کے شروع کرنے سے پہلے ایک تنبیہ ہے کہ مخاطب اس کو محض ایک کہانی کی طرف نہ سنیں بلکہ اس میں ان بہت سے سوالوں کے جواب مضمر ہیں جو دعوت اسلامی کے اس دور میں مخالفین و موافقین دونوں ہی کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔ اس گروپ کی پچھلی دونوں سورتوں میں حق کے غلبہ اور باطل کی ہزیمت کا مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے لیکن جس وقت یہ مضمون بیان ہوا ہے پورے ملک پر اس طرح کفر کی تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ یہ تصور کرنا کچھ آسان نہ تھا کہ یہ تاریکی ایک دن بالکل کافور ہوجائے گی اور جو شخص آج اپنے چند نہایت مظلوم ساتھیوں کے ساتھ وقت کے متمردین کے ہاتھوں ہر قسم کے مصائب و مظالم کا ہدف ہے ایک دن آئے گا کہ یہ تمام متمردین اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس سے رحم و کرم کی التجائیں کریں گے۔ قرآن نے اس تصور کو زہنوں کے قریب لانے کے لیے یہ سرگزشت سنائی تاکہ اس امر سے متعلق ذہنوں میں جتنے بھی سوالات و شبہات موجود ہوں یا آئندہ پیدا ہوسکتے ہوں وہ دور ہوجائیں اور لوگوں کو اندازہ ہوجائے کہ خدا کی شانیں یوں ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ارادے اور منصوبے یوں روئے کار آتے ہیں۔