تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 8
اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ﴿8﴾
- اِذْجب
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- لَيُوْسُفُضرور یوسف
- وَاَخُوْهُاور اس کا بھائی
- اَحَبُّزیادہ پیارا
- اِلٰٓيطرف (کو)
- اَبِيْنَاہمارا باپ
- مِنَّاہم سے
- وَنَحْنُجبکہ ہم
- عُصْبَةٌایک جماعت
- اِنَّبیشک
- اَبَانَاہمارے باپ
- لَفِيْ ضَلٰلٍالبتہ غلطی میں
- مُّبِيْنِصریح
Translation · Tadabbur-e-Quran
خیال کرو جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں۔ بیشک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ۔
برادران یوسف کا غصہ : عصبۃ کے معنی گروہ، جتھہ اور جماع کے ہیں، خاص طور پر وہ گروہ جس کے اندر خون کی عصبیت بھی موجود ہو۔ بدویانہ دور زندگی میں، جب منظم حکومتوں کا وجود نہیں تھا، حمایت و مدافعت کا تمام تر انحصار خاندان اور قبیلہ کی عصبیت ہی پر ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ باعزت اور باثر وہ خاندان سمجھا جات جس کے اندر حمایت اور مدافعت کے لیے اٹھنے والے نوجوان سب سے زیادہ ہوں۔ اسی خاندان کو قوم و قبیلہ کی سربراہی حاصل ہوتی اور وہی حکومت کرتا۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے اسی امر کو مد نظر رکھ کر نعوذ باللہ اپنے باپ کی بےخردی اور ناعاقبت اندیشی پر آپس میں غصہ کا اظہار کیا کہ جتھہ اور گروہ کی حیثیت تو ہماری ہے، حمایت و مدافعت کا ذریعہ تو ہم بنیں گے، دوسروں پر دھاک تو ہمارے بل بوتے پر بیٹھے گی لیکن ہمارے باپ کا حال یہ ہے کہ اس کو محبت یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے ہے، اس سے بڑی غلطی اور گمراہی کیا ہوسکتی ہے۔