تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 83
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿83﴾
- قَالَاس نے کہا
- بَلْبلکہ
- سَوَّلَتْبنا لی ہے
- لَكُمْتمہارے لیے
- اَنْفُسُكُمْتمہارا دل
- اَمْرًاایک بات
- فَصَبْرٌپس صبر
- جَمِيْلٌاچھا
- عَسَىشاید
- اللّٰهُاللہ
- اَنْ يَّاْتِيَنِيْکہ میرے پاس لے آئے
- بِهِمْانہیں
- جَمِيْعًاسب کو
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہ
- الْعَلِيْمُجاننے والا
- الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا بلکہ تمہارے دل نے یہ بات گھڑ لی ہے تو صبر جمیل ہی اولیٰ ہے۔ امید ہے اللہ ان سب کو میرے پاس لائے گا، بیشک وہی علیم و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔
" تسویل " کے معنی تزیین اور تسہیل کے ہیں۔ سول لہ الشیطان، شیطان نے اس کو گمراہ کیا اور اس کی نگاہوں میں کھبایا کہ فلاں کام کر گزرے۔ سولت لہ نفسہ کذا، اس کے نفس نے فلاں کام کو اس کے لیے آسان بنا دیا۔ اور اس کی نگاہوں میں کھبا دیا۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ، نکرہ موصوف یہاں مبتدا کے محل میں ہے اور خبر اس کی محذوف ہے۔ یعنی صبر جمیل ہی اس حالت میں اولی اور اختیار کے لائق ہے۔ صَبْرٌ جَمِيْلٌ اس صبر کو کہتے ہیں جو اظہار غم کے اوچھے طریقوں سے پاک ہو۔ واویلا اور ماتم و سرکوبی کے بعد تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں، صبر جمیل ان لوگوں کے صبر کو کہتے ہیں جو غم کو اس طرح برداشت کرتے ہیں کہ نہ ان کی زبان کسی حرف شکایت سے آلودہ ہوتی نہ ان کے ہاتھ پاؤں سے کسی خلاف وقار حرکت کا صدور ہوتا۔
دو بیٹوں سے محرومی پر حضرت یعقوب ؑ کے تاثرات : " قال " کا ظاہر مفہوم تو اگرچہ یہی ہے کہ حضرت یعقوب نے یہ بات بیٹوں کو خطاب کرکے فرمائی ہو لیکن یہ لفظ چونکہ دل میں کہنے کے لیے بھی آتا ہے اس وجہ سے میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے بیٹوں کی زبانی یہ غم انگیز خبر سن کر یہ بات ان کو خطاب کر کے نہیں بلکہ اپنے دل میں کہی کہ سب تمہارے اپنے نفس کا گھڑا ہوا افسانہ ہے تو صبر جمیل ہی اولی اور احق ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے۔ ساتھ ہی ان کے قلب روشن میں یہ امید بڑے زروں سے ابھری کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس جمع کردے گا، علیم و حکیم تو وہی ہے۔ جس طرح اس کی شدت بارش کی امید کو بڑھاتی ہے اسی طرح آزمائش کی شدت اللہ کی رحمت کی امید کو غذا اور قوت بخشتی ہے۔ خاصان خدا اس رمز سے آگاہ ہوتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا اس وجہ سے جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب معاملہ ان کی طاقت سے باہر ہورہا ہے تو وہ منتظر ہوجاتے ہیں کہ اب فتح باب میں یادہ دیر نہیں ہے۔ حضرت یعقوب نے جب دیکھا کہ یوسف کے بعد وہ بن یامین اور یہوذا سے بھی محروم ہوگئے تو انہیں دفعۃً یہ روشنی نظر آئی کہ اب انشاء اللہ سب کے جمع ہوجانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ کیسے ہوگی تو اس کیسے کا جواب صرف اسی کے پاس جو تمام علم و حکمت کا مالک ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ اسی علیم و حکیم پر بھروسہ رکھے۔