Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 84

  1. وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ﴿84﴾

    1. وَتَوَلّٰىاور منہ پھیرلیا
    2. عَنْهُمْان سے
    3. وَقَالَاور کہا
    4. يٰٓاَسَفٰىہائے افسوس
    5. عَلٰيپر
    6. يُوْسُفَیوسف
    7. وَابْيَضَّتْاور سفید ہوگئیں
    8. عَيْنٰهُاس کی آنکھیں
    9. مِنَسے
    10. الْحُزْنِغم
    11. فَهُوَپس وہ
    12. كَظِيْمٌگھونٹ رہا تھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے ان سے منہ پھیرا اور کہا ہائے یوسف ! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ۔ وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ ، یعنی اس حادثہ کے بعد بیٹوں سے آزردہ اور الگ ہو کر وہ گوشہ میں بیٹھ گئے۔ اس تازہ حادثہ نے حضرت یوسف ؑ کے غم کو مزید شدت سے تازہ کردیا اور اس شدت غم میں ان کی زبان سے ہائے یوسف ! کے الفاظ بےساختہ نکل گئے۔ شدتِ غم اور کثرت گریہ سے ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور ہر وقت سینہ میں غم دبائے رکھنے کے سبب سے وہ گھٹے گھٹے سے رہنے لگے۔ یہ واضح رہے کہ یہ ساری حالتیں ان کے تنہائی کے غم و الم کی بیان ہو رہی ہیں جس میں معاملہ تمام تر ان کے اور ان کے رب کے درمیان تھا۔ اس حقیقت کا انہوں نے اظہار بھی فرمایا ہے اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ اپنے اللہ ہی کے آگے کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان باتوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے)۔ اپنے غم و الم کا اظہار اپنے رب کے آگے کرنا نہ صرف یہ کہ کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ نہایت اچھی بات ہے۔ اس غم و الم کا باعث یاس نہیں بلکہ امید ہوتی ہے۔ بندی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ جتنا ہی اپنے رب کے آگے روئے گا اتنا ہی اس کا رونا اس کی رحمت کو جوش میں لائے گا۔ رونا دھونا وہ ممنوع ہے جو دوسروں کے آگے ہو، جو امید کے بجائے یاس کا مظہر ہو اور جس میں انسان اپنی بےصبری کا اظہار اس طرح کرے جس سے ایمان اور توکل کا وقار مجروح ہو۔ یہ بات کچھ عجیب نہیں کہ اس تازہ حادثہ نے بھی حجرت یعقوب کے دل میں حضرت یوسف ہی کے غم کو ہرا کیا۔ اول تو بن یامین کے حادثہ کی نوعیت وہ نہیں تھی جو حضرت یوسف کے حادثہ کی تھی، ثانیاً حضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے جو دل بستگی تھی وہ صرف بیٹے ہونے کے سبب سے نہیں تھی بلکہ اس میں اصلی دخل ان کی ان اعلی صلاحیتوں کو تھا جن کی بنا پر حضرت یعقوب ان سے اس درجہ محبت کرتے تھے کہ وہ اپنے تمام بھائیوں کے محسود بن گئے اور بالآخر اسی کے نتیجہ میں بھائیوں کے ہاتھوں انہیں نہایت زہر گداز آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ غم و الم کی شدت اور رونے دھونے سے آنکھوں کا سفید ہوجانا کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت ہے۔ غم اور گریہ سے پلکوں اور پتلیوں کی سیاہی بھی متاثر ہوتی ہے اور آنکھوں کے سرخ ڈورے بھی آہستہ آہستہ غائب ہوجاتے ہیں۔ لفظ " کظیم " حضرت یعقوب کے صبر کی تعریف کے لیے ہے کہ ہر وقت غم کو سینہ میں دبائے رکھنے کے سبب سے وہ گھٹے گھٹے سے رہتے۔ یا اسفی میں آخر کا الف یائے اضافت کا قائم مقام ہے۔