Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 89

  1. قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ﴿89﴾

    1. قَالَکہا
    2. هَلْ عَلِمْتُمْکیا تمہیں خبر ہے
    3. مَّا فَعَلْتُمْکیا تم نے کیا ہے
    4. بِيُوْسُفَیوسف کے ساتھ
    5. وَاَخِيْهِاور اس کا بھائی
    6. اِذْ اَنْتُمْجب تم
    7. جٰهِلُوْنَنادان
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا تمہیں کچھ پتہ ہے کہ تم جہالت میں مبتلا ہو کر یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کچھ کر گزرے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ۔ افشائے راز : حضرت یوسف ؑ بھائی اور شریف بھائی تھے۔ بھائیوں کی اس بدحالی اور پریشانی اور ان کی اس لجاجت آمیز درخواست بالخصوص درخواست صدقہ نے ان کے دل کو ہلا دیا۔ یہ بڑے طنطنہ کے لوگ تھے لیکن اب حالا نے اس طرح ان کے اعصاب ڈھیلے کردیے تھے کہ صدقہ کے لیے درخواست کرنے میں بھی انہیں عار نہ تھا۔ حضرت یوسف اس صورت حال سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ بیگانگی کا جو پردہ ان کے اور ان کے بھائیوں کے درمیان اب تک حائل تھا اس کو مزید برقرار رکھنا انہوں نے مناسب نہیں خیال فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنی جہالت کے زمانے میں جو کچھ کرچکے ہو وہ کچھ تمہیں یاد ہے ؟ لفظ " جھل " یہاں برے جذبات سے مغلوبیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی تشریح ایک سے زائد مقامات میں ہم کرچکے ہیں۔