Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 90

  1. قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿90﴾

    1. قَالُوْٓاوہ بولے
    2. ءَاِنَّكَکیا تم ہی
    3. لَاَنْتَتم ہی
    4. يُوْسُفُیوسف
    5. قَالَاس نے کہا
    6. اَنَا يُوْسُفُمیں یوسف
    7. وَهٰذَآاور یہ
    8. اَخِيْمیرا بھائی
    9. قَدْ مَنَّالبتہ احسان کیا ہے
    10. اللّٰهُاللہ
    11. عَلَيْنَاہم پر
    12. اِنَّهٗبیشک وہ
    13. مَنْ يَّتَّقِجو ڈرتا ہے
    14. وَيَصْبِرْاور صبر کرتا ہے
    15. فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
    16. لَا يُضِيْعُضائع نہیں کرتا
    17. اَجْرَاجر
    18. الْمُحْسِنِيْنَنیکی کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے کہ کیا آپ واقعۃً یوسف ہی ہیں ! ! اس نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر پنا فضل فرمایا۔ بیشک جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ ۭ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ ۡ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا ۭ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ حضرت یوسف کی زبان سے لفظ یوسف نکلنا تھا کہ یہ لوگ بول پڑے کہ اچھا ! آپ یوسف ہی ہیں ؟ ان کے اس فقرے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کی ملاقاتوں میں بھی چہرے، بشرے، انداز، اطوار سے انہیں یہ کھٹکتی رہی تھی کہ کہیں یہ یوسف تو نہیں ہیں ؟ لیکن کنعان کے اس کنوئیں میں، جس میں انہوں نے حضرت یوسف کو ڈالا تھا، اور اس تخت حکومت میں، جس پر حضرت یوسف اب فروکش تھے، اتنا بعد تھا کہ وہ یہ گمان نہیں کرسکتے تھے کہ یوسف وہاں سے یہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ جن لوگوں نگاہ صرط ظواہر تک محدود رہتی ہے وہ قدرت الٰہی اور رحمت ربانی کے ان عجائب کا تصور نہیں کرسکتے۔ چناچہ جب جب ان کا ذہن اس طرف گیا کہ ان میں بہت سی جھلکیاں یوسف کی ہیں تو اس کو وہ محض واہمہ کی کرشمہ سازی سمجھ کر دل سے نکالتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت یوسف کا مذکورہ بالا فقرہ کانوں میں پڑا تو وہ پکار اٹھے کہ اچھا آپ یوسف ہی ہیں ؟ حضرت یوسف نے فرمایا کہ جی ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر اپنا فضل فرمایا۔ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور اس پر خوبی کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ دنیا میں بھی ان کو اپنے فضل سے نوازتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا بھرپور صلہ عطا فرمائے گا۔ یہی حقیقت اس ساری سرگزشت کی روح ہے اور ہم شروع میں عرض کرچکے ہیں کہ اسی کو اس سورة کے عمود کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ " احسان " کا لفظ یہاں تقوی اور صبر کی بنیادی شرط کی حیثیت سے مذکور ہوا ہے یعنی عنداللہ مقبول تقوی اور صبر وہ ہے جس کے اندر " احسان " کی روح ہو یعنی بندہ اس طرح تقوی صبر کا حق ادا کرے گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اور یہ یقین رکھے کہ اگر وہ خدا کو نہیں دیکھا رہا ہے تو خدا تو بہرحال اس کو دیکھ رہا ہے۔