Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 92

  1. قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴿92﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. لَا تَثْرِيْبَنہیں کوئی ملامت
    3. عَلَيْكُمُتم پر
    4. الْيَوْمَآج
    5. يَغْفِرُبخشے
    6. اللّٰهُاللہ
    7. لَكُمْتم کو
    8. وَهُوَاور وہ
    9. اَرْحَمُسب سے زیادہ مہربان
    10. الرّٰحِمِيْنَمہربانی کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا اب تم پر کچھ الزم نہیں۔ اللہ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۔ " تثریب " کے معنی کسی کو اس کے کسی قابل ملامت فعل پر ملامت کرنے کے ہیں۔ حضرت یوسف ؑ کا عفو و کرم : اگر سچے احساس ندامت کے ساتھ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے تو ایک کریم بن کریم اس کو معاف ہی کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کی معافی کی امید ہوتی ہے اس لیے کہ وہ تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ حضرت یوسف نے جب یہ محسوس فرمالیا کہ یہ لوگ سچے دل سے اپنی غلطی کے معترف ہیں تو انہوں نے نہایت فیاضی سے ان کو معاف فرما دیا کہ اب آپ لوگوں پر کوئی الزام نہیں اور خدا کے ہاں بھی ان کو معافی کی امید دلائی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہی الفاظ حضور نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن قریش کے ان سرغنوں کو خطاب کر کے فرمائے جو برابر آپ کی دشمنی میں سرگرم رہے تھے۔ جب یہ لوگ حضور ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں۔ وہ بولے کہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی، اب تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم آزاد ہو۔