Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 98

  1. قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿98﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. سَوْفَجلد
    3. اَسْتَغْفِرُمیں بخشش مانگوں گا
    4. لَكُمْتمہارے لیے
    5. رَبِّيْاپنا رب
    6. اِنَّهٗبشیک وہ
    7. هُوَوہ
    8. الْغَفُوْرُبخشنے والا
    9. الرَّحِيْمُنہایت مہربان
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا میں جلد اپنے رب سے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا، بیشک وہی بخشنے وال اور رحم فرمانے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔ حضرت یعقوب نے ان کی یہ استدعا قبول فرمائی اور ان سے وعدہ کیا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے گناہوں کی معافی کے لیے دعا کروں گا۔ " سوف " کا لفظ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے خاص اہتمام کے ساتھ، خاص وقت میں، دعا کا وعدہ فرمایا۔ یہ کہہ کر ان کو ٹالنے کی کوشش نہیں کی کہ جاؤ، اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ آدمی کا دل اگر خود اپنے گناہوں پر پشیمان ہو تو اس کو صالحین سے دعا کی درخواست بھی کرنی چاہیے اور اس کے حق میں صالحین کی دعا قبول بھی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یوں تو بندہ ہر وقت اپنے رب سے دعا کرسکتا ہے لیکن خاص اہتمام خاص وقت اور خاص جگہ بھی اس کی قبولیت کے معاملے میں ایک موثر چیز ہے۔ ہر سخن جائے و ہر نکتہ مکانے دارد۔