تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 45
وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ﴿45﴾
- وَّسَكَنْتُمْاور تم رہے تھے
- فِيْمیں
- مَسٰكِنِگھر (جمع)
- الَّذِيْنَجن لوگوں نے
- ظَلَمُوْٓاظلم کیا تھا
- اَنْفُسَهُمْاپنی جانوں پر
- وَتَبَيَّنَاور ظاہر ہوگیا
- لَكُمْتم پر
- كَيْفَکیسا
- فَعَلْنَاہم نے (سلوک) کیا
- بِهِمْان سے
- وَضَرَبْنَااور ہم نے بیان کیں
- لَكُمُتمہارے لیے
- الْاَمْثَالَمثالیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں رہے بسے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور تم پر واضح تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور تمہارے لیے ہم نے مثالیں بھی بیان کردی تھیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ۔
تاریخ کی یاد دہانی : یعنی یہ بات نہیں ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا جو حشر ہوا اور خدا نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا اس سے تم بیخبر رہے ہو، انہی اقوام بائدہ و معذبہ کی بستیوں میں تم رہے بسے اور خدا نے تم کو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کے سبق آموز اور عبرت انگیز حالات بھی سنا دیے۔ یہ حالات محض قصے کے طور پر تمہیں نہیں سنائے گئے تھے بلکہ ان کے سنانے سے مقصود تم کو یہ بتانا تھا کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے رسول کی تکذیب کردی۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور تم نہیں مانے تو اب کس بات کے لیے مزید مہلت مانگ رہے ہو ؟