تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 47
فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ﴿47﴾
- فَلَا تَحْسَبَنَّپس تو ہرگز خیال نہ کر
- اللّٰهَاللہ
- مُخْلِفَخلاف کرے گا
- وَعْدِهٖاپنا وعدہ
- رُسُلَهٗاپنے رسول
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- عَزِيْزٌزبردست
- ذُو انْتِقَامٍبدلہ لینے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اللہ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سجھو، اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ۔ یہ خطاب بھی پیغمبر ﷺ سے ہے اور اس میں بھی جو تسکین اور طمانیت کا پہلو ہے وہ تو آنحضرت ﷺ کے لیے ہے اور جو عتاب اور غضب کا پہلو ہے اس کا رخ کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نہ گمان کرو کہ خدا نے اپنے رسولوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ فرمایا ہے کسی حال میں اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ وہ عزیز و غالب ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور انتقام لینے والا ہے اس وجہ سے شریروں اور حق و عدل کے دشمنوں کو ضرور کیفر کردار کو پہنچائے گا۔