Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 22

  1. وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ﴿22﴾

    1. وَاَرْسَلْنَااور ہم نے بھیجیں
    2. الرِّيٰحَہوائیں
    3. لَوَاقِحَبھری ہوئی
    4. فَاَنْزَلْنَاپھر ہم نے اتارا
    5. مِنَسے
    6. السَّمَآءِآسمان
    7. مَآءًپانی
    8. فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُپھر ہم نے وہ تمہیں پلایا
    9. وَمَآاور نہیں
    10. اَنْتُمْتم
    11. لَهٗاس کے
    12. بِخٰزِنِيْنَخزانہ کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم ہی ہواؤں کا بار آور بنا کر چلاتے ہیں پھر آسمان سے پانی برساتے اور تم کو اس سے سیراب کرتے ہیں اور یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم اس کے ذخیرے جمع کرکے رکھتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نظام ربوبیت کی مزید وضاحت : وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ۔ " لقح " کے معنی باردار اور حاملہ کرنے کے ہیں۔ اسی سے لاقحہ اور اور کی جمع لواقح ہے۔ " ریاح " موسیٰ ہواؤں کو کہتے ہیں جو بادلوں کو باردار کرتے اور بارش کا سبب بنتی ہیں۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی جس ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ پانی جو تمہاری اور تمام جانداروں کی زندگی کا ذریعہ اور تمام اسباب معیشت کو وجود میں لانے کا واسطہ ہے۔ یہ خدا ہی کے حکم اور اس کی مہربانی سے تمہیں حاصل ہوتا ہے۔ وہی ہے جو موسمی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو جمع اور ان کو باردار کرتی ہیں جن سے تم سیراب ہوتے ہو۔ یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم اس پانی کے ذخیرے جمع کرکے رکھ چھوڑتے اور جب ضرورت پڑتی پانی برسا لیتے، یہ خدا ہی کا انتظام اور اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ انتظام کر رکھا ہے۔