تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 4
وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ﴿4﴾
- وَمَآاور نہیں
- اَهْلَكْنَاہم نے ہلاک کیا
- مِنْکسی
- قَرْيَةٍبستی
- اِلَّامگر
- وَلَهَااس کے لیے
- كِتَابٌایک لکھا ہوا
- مَّعْلُوْمٌمقررہ وقت
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے جس قوم کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک معین نوشتہ رہا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیت 4۔ 5: عاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ : وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آرہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہوجاتی ہے ایک خدائی نوشتہ میں مرقوم ہے۔ جب اس نوشتہ کی مدت پوری ہوجاتی ہے، قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ نہ اس میں تقدیم ہوتی نہ تاخیر