تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 88
لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿88﴾
- لَا تَمُدَّنَّہرگز نہ بڑھائیں آپ
- عَيْنَيْكَاپنی آنکھیں
- اِلٰىطرف
- مَا مَتَّعْنَاجو ہم نے برتنے کو دیا
- بِهٖٓاس کو
- اَزْوَاجًاکئی جوڑے
- مِّنْهُمْان کے
- وَلَا تَحْزَنْاور نہ غم کھائیں
- عَلَيْهِمْان پر
- وَاخْفِضْاور جھکا دیں آپ
- جَنَاحَكَاپنے بازو
- لِلْمُؤْمِنِيْنَمومنوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو جن چیزوں سے بہرہ مند کر رکھا ہے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور نہ ان کی حالت پر غم کرو اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ
لفظ ازاواج طبقات کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً سورة واقعہ میں ہے " وکنتم ازواجا ثلاثہ " (اور اس وقت تم تین طبقات میں تقسیم ہوگے)۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب خدا نے تمہیں قرآن کی یہ نعمت عظمی دے رکھی ہے جو تمہاری کامیابی وفتحمندی کی ضامن ہے تو تمہیں ان لوگوں کی طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے جو اپنے مال و اسباب کے غرور میں مست ہیں اور تمہاری بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ حقیقت یہاں پیش نظر رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی قوم کے اغنیاء اور ارباب ثروت و جاہ کی طرف خاص طور پر دعوت کے ابتدائی دور میں، جو توجہ ہوئی ہے تو اس کا سبب نعوذ باللہ یہ نہیں تھا کہ ان نگاہوں میں ان کے مال و متاع کی کوئی طمع یا وقعت تھی بلکہ اس کا سبب محض یہ تھا کہ اگر یہ زور زر رکھنے والے لوگ ایمان لائیں گے تو یہ اپنی دنیا اور عاقبت بھی سنواریں گے اور ان کا مال اور ان کا اثر دین کی تقویت اور ان کے زیردستوں کے لیے دین کی راہ کھولنے کا بھی ذریعہ ہوگا۔ اسی جذبہ خیر سے آنحضرت ﷺ کو بھی دعوت کے ابتدائی دور میں قریش کے اکابر و اعیان کی طرف خاص توجہ رہی لیکن جب انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے صرف نظر کرکے اپنی ساری توجہ اور شفقت ان لوگوں پر مبذول فرمائیں جو اگرچہ دولت دنیا نہیں رکھتے لیکن قرآن عظیم پر ایمان کی نعمت ان کو حاصل ہے۔ وَلا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان اغنیاء کی ایمان سے محرومی پر بڑا غم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بھی روک دیا کہ ان لوگوں کی اس محرومی پر غم نہ کھاؤ۔ یہ شامت زدہ لوگ اسی کے سزاوار تھے کہ یہ قرآن پر ایمان کی نعمت سے محروم ہی رہیں۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ ، میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ اب ان شامت زدہ لوگوں پر قہر الٰہی نازل ہونے میں دیر نہیں تو جس طرح پرندہ کوئی خطرہ محسوس کرتے ہی اپنے بچوں کو اپنے پروں سے نیچے چھپا لیتا ہے اسی طرح تم ان مومنین کو برابر اپنے دامن شفقت کے نیچے چھپائے رکھو۔