تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 104
وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ﴿104﴾
- وَّقُلْنَااور ہم نے کہا
- مِنْۢ بَعْدِهٖاس کے بعد
- لِبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل کو
- اسْكُنُواتم رہو
- الْاَرْضَزمین (ملک)
- فَاِذَاپھر جب
- جَآءَآئے گا
- وَعْدُ الْاٰخِرَةِآخرت کا وعدہ
- جِئْنَاہم لے آئینگے
- بِكُمْتم کو
- لَفِيْفًاجمع کر کے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ملک میں رہو بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل پر انعام : وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔ فرعون کو غرق کرنے کے بعد یہ بنی اسرائیل پر انعام ہوا کہ اللہ نے ان کو ارض مقدس میں بسایا۔ " الارض " سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ارض مقدس ہے جس کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا۔ اس وعدے کو پورا کرتے وقت اللہ نے ان کو آخرت کا وعدہ بھی یاد دلا دیا تھا کہ اس کامیابی کی خوشیوں میں آخرت کو نہ بھول جانا۔ جس طرح اپنے وعدے کے مطابق ہم تم کو سمیٹ کر یہاں لائے ہیں اسی طرح اپنے وعدے کے بموجب ایک دن سمیٹ کر حساب کتاب کے لیے حشر کے میدان میں جمع کریں گے۔ لیکن بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی اس یاد دہانی کو بالکل بھول گئے۔