Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 29

Tafseer
  1. وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا﴿29﴾

    1. وَاور
    2. لَا تَجْعَلْتو نہ رکھ
    3. يَدَكَاپنا ہاتھ
    4. مَغْلُوْلَةًبندھا ہوا
    5. اِلٰىتک۔ سے
    6. عُنُقِكَاپنی گردن
    7. وَاور
    8. لَا تَبْسُطْهَانہ اسے کھول
    9. كُلَّ الْبَسْطِپوری طرح کھولنا
    10. فَتَقْعُدَپھر تو بیٹھا رہ جائے
    11. مَلُوْمًاملامت زدہ
    12. مَّحْسُوْرًاتھکا ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہ تو اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھے رکھو اور نہ اس کو بالکل کھلا ہی چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ رہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۔ ہاتھ کو گردن سے باندھ لینا، تعبیر ہے انتہائی بخل اور خست کی اور ہاتھ کو بالکل کھلا چھوڑ دینا تعبیر ہے اسراف و تبذیر کی۔ اوپر آیات 26۔ 27 میں اسراف و تبذیر کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے اس کے باب میں غلط فہمی سے بچانے کے لیے یہ صحیح نقطہ اعتدال کی وضاحت فرمادی کہ منشائے الٰہی یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی ضروریات کے معاملے میں بالکل ہی بخیل و خسیس بن کر رہا جائے بلکہ صرف یہ مطلوب ہے کہ وہ اعتدال و کفایت شعاری کا رویہ اختیار کرے، نہ اپنے ہاتھ بالکل باندھ ہی لے، نہ ان کو بالکل کھلا چھوڑے دے، بلکہ اعتدال کے ساتھ اپنی جائز ضروریات پر بھی خرچ کرے اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے۔ تَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا، یہاں تقعد اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں آیت 22 میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے ہاتھ بالکل ہی کھلے ہوئے چھوڑ دوگے تو بالآخر اس کا نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ دوسروں کے حقوق کے معاملے میں سزاوار ملامت بھی ٹھہرو گے اور ادائے حقوق سے قاصر و درماندہ بھی ہو کر رہ جاؤگے۔