تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 30
Tafseerاِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ع﴿30﴾
- اِنَّبیشک
- رَبَّكَتیرا رب
- يَبْسُطُفراخ کردیتا ہے
- الرِّزْقَرزق
- لِمَنْ يَّشَآءُجس کا وہ چاہتا ہے
- وَيَقْدِرُاور تنگ کردیتا ہے
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَہے
- بِعِبَادِهٖاپنے بندوں سے
- خَبِيْرًۢاخبر رکھنے والا
- بَصِيْرًادیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک تمہارا رب ہی ہے جو رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا۔
یہاں " یقدر " کے بعد بھی " لمن یشاء " ہے جو وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف کردیا گیا ہے۔
رزق کی تنگی و کشادگی خدا کی مشیت پر منحصر ہے : اوپر والی آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ اور نہ تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ کے رکھو، یہ آیت اسی کی وضاحت میں ہے کہ رزق کی تنگی و کشادگی کا انحصار آدمی کی اپنی تدبیروں پر نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر خدا کی حکمت و مشیت پر منحصر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح باخبر اور ان کا نگران و نگہبان ہے۔ وہی اپنی مشیت و حکمت کے تحت جس کے لیے رزق کو چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے رزق کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بندے کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ احتیاط و اعتدال کے ساتھ اپنی ضروریات پر بھی خرچ کرے اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے۔ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو اس نقطہ اعتدال سے منحرف ہو، خواہ وہ کسی سمت میں ہو۔