تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 98
ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا﴿98﴾
- ذٰلِكَیہ
- جَزَآؤُهُمْان کی سزا
- بِاَنَّهُمْکیونکہ وہ
- كَفَرُوْاانہوں نے انکار کیا
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیتوں کا
- وَقَالُوْٓااور انہوں نے کہا
- ءَاِذَاکیا جب
- كُنَّاہوجائیں گے ہم
- عِظَامًاہڈیاں
- وَّرُفَاتًااور ریزہ ریزہ
- ءَاِنَّاکیا ہم
- لَمَبْعُوْثُوْنَضرور اٹھائے جائیں گے
- خَلْقًاپیدا کر کے
- جَدِيْدًااز سر نو
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ ان کا بدلہ ہوگا اس بات کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرمایا کہ۔ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا۔ یہ سزا ان کو اس لیے دی جائے گی کہ قدم قدم پر ہماری قدرت اور حیات بعد الممات کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود وہ قیامت کے انکار ہی پر اڑے رہے اور بڑے طنطنہ کے ساتھ یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے اور سڑ گل کر ریزی ریزہ ہوجائیں گے تو بھلا از سر نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟ یعنی ان کے خیال میں یہ بالکل ناممکن اور محال ہے۔ فرمایا کہ ہم اسی محال کو واقعہ بنا کر ان کو اس کا مزہ چکھائیں گے۔