تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 11
فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ﴿11﴾
- فَضَرَبْنَاپس ہم نے مارا (پردہ ڈالا)
- عَلٰٓيپر
- اٰذَانِهِمْان کے کان (جمع)
- فِي الْكَهْفِغار میں
- سِنِيْنَ عَدَدًاکئی سال
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر کئی برس کے لیے تھپک دیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا۔
" ضرب علی الاذان " کا مفہوم : " ضرب علی الاذان " کے لفظی معنی کانوں پر ٹھپہ لگانے یا تھپکنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ محاورہ کسی کو سننے سے روک دینے یا پیار و شفقت سے سلا دینے کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کو جب سلاتے ہیں تو اس کے کانوں پر تھپکتے ہیں۔ غار میں پناہ لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان پر کوئی سالوں کے لیے نہایت آرام و سکون کی نیند طاری کردی۔ نیند کے لیے یہ الفاظ بطور استعارہ استعمال ہوئے ہیں اور پیار کے ساتھ سلانے کے لیے یہ نہایت بلیغ استعارہ ہے۔