Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 10

  1. اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا﴿10﴾

    1. اِذْجب
    2. اَوَىپناہ لی
    3. الْفِتْيَةُجوان (جمع)
    4. اِلَىطرف۔ میں
    5. الْكَهْفِغار
    6. فَقَالُوْاتو انہوں نے کہا
    7. رَبَّنَآاے ہمارے رب
    8. اٰتِنَاہمیں دے
    9. مِنْ لَّدُنْكَاپنی طرف سے
    10. رَحْمَةًرحمت
    11. وَّهَيِّئْاور مہیا کر
    12. لَنَاہمارے لیے
    13. مِنْ اَمْرِنَاہمارے کام میں
    14. رَشَدًادرستی
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور دعا کی کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش اور ہمارے اس معاملے میں ہماری لیے رہنمائی کا سامان فرما
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ " رشد " کا مفہوم : " رشد " کے معنی ہیں اس نے ہدایت اور استقامت پائی۔ رَشِدَ امرہ کے معنی ہوں گے س نے اپنے معاملے میں ہدایت پائی وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ کا مفہوم ہوگا کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے اس راہ میں جو ہم نے اختیار کی ہے تو رہنمائی اور استقامت کا بدرقہ مہیا فرما۔ نوجوانوں کی دعا : یہ وہ دعا ہے جو ان نوجوانوں نے اس وقت کی ہے جب انہوں نے غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا ہے آیات کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ یہ نوجوان لوگ تھے۔ نوجوانوں میں جب ایک مرتبہ حق کی حمیت جاگ پڑتی ہے تو پھر نہ وہ مصالح کی پروا کرتی ہے اور نہ خطرات کی۔ لیکن ان لوگوں کے اندر صرف جوانی کا جوش ہی نہیں تھا بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی حکمت کا نور بھی تھا۔ اس وجہ سے اس نازک مرحلہ میں انہوں نے اللہ سے رہنمائی اور استقامت کی دعا کی اور یہی بات اہل ایمان کے شایان شان ہے۔ سرگزشت کا خلاصہ بطور تمہید : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی دو آیتیں اصل سرگزشت کے خلاصہ کے طور پر ہیں جن میں پہلے اجمال کے ساتھ سرگزشت قاری کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ اس کے بعد پوری سرگزشت تفصیل کے ساتھ سامنے آئے گی۔ تفصیل سے پہلے اجمال کا یہ طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اصل مدعا نگاہ کے سامنے رہتا ہے۔ دوسری ضمنی باتیں اس کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتیں سرگزشتوں کے بیان میں یہ طریقہ قرآن نے جگہ جگہ اختیار کیا ہے۔