Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 14

  1. وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا﴿14﴾

    1. وَّرَبَطْنَااور ہم نے گرہ لگا دی
    2. عَلٰيپر
    3. قُلُوْبِهِمْان کے دل
    4. اِذْجب
    5. قَامُوْاوہ کھڑے ہوئے
    6. فَقَالُوْاتو انہوں نے کہا
    7. رَبُّنَاہمارا رب
    8. رَبُّپروردگار
    9. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    10. وَالْاَرْضِاور زمین
    11. لَنْ نَّدْعُوَاہم ہرگز نہ پکاریں گے
    12. مِنْ دُوْنِهٖٓاس کے سوائے
    13. اِلٰهًاکوئی معبود
    14. لَّقَدْ قُلْنَآالبتہ ہم نے کہی
    15. اِذًااس وقت
    16. شَطَطًابےجا بات
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا جب کہ وہ اٹھے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم یہ حق سے نہایت ہٹی ہوئی بات کہیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا " ربط اللہ علی قلبہ " کے معنی ہوں گے خدا نے اس کے دل کو قوت و عزیمت دے دی۔ " سط " کے معنی دور ہونے اور " شطط " کے معنی تباعد عن الحق، یعنی حق سے انحراف اور دوری کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہرچند حالات بہت ہی سخت تھے۔ کلمہ حق کی دعوت دینا بڑا جان جوکھم کا کام تھا لیکن ان نوجوانوں کے ایمان میں خدا نے برکت دی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ صرف اپنے ہی ایمان پر قانع ہو کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ ہر قسم کے خطرات سے بےپروا ہو کر دعوت توحید کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، جب اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور انہوں نے اپنی قوم میں عام منادی کردی کہ ہمارا رب صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اس کے سوا ہم کسی اور کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو رب مانیں گے تو ہماری یہ حرکت نہایت بےجا اور حق سے بہت دور ہٹی ہوئی ہوگی۔