Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 30

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ﴿30﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اٰمَنُوْاایمان لائے
    4. وَعَمِلُوااور نہوں نے عمل کیے
    5. الصّٰلِحٰتِنیک
    6. اِنَّایقیناً ہم
    7. لَا نُضِيْعُہم ضائع نہیں کریں گے
    8. اَجْرَاجر
    9. مَنْجو۔ جس
    10. اَحْسَنَاچھا کیا
    11. عَمَلًاعمل
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے تو ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 30 تا 31: ایمان لانے والوں کو صلہ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا۔ أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الأرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ کفر کرنے والوں کے انجام کے بیان کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو قرآن کی دعوت پر ایمان لائے۔ امراء و اغنیاء چونکہ ان لوگوں کو، ان کی غربت کے سبب سے، بہت حقیر سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کے صلہ کے بیان میں ان چیزوں کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو وقت کے امراء کے لیے سرمایہ فخر و ناز تھیں۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیے ہم ان خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔ ان کے لیے ہمیشگی کے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سندس وا ستبرق کے سبز لباس پہنیں گے، تختوں پر ٹیک لگائے ہوں گے۔ کیا ہی خوب صلہ اور کیا ہی خوب ٹھکانا ہوگا۔ جنت اور دوزخ کے احوال سے متعلق ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ یہ متشابہات میں داخل ہیں۔ جن تمثیلات و تشبیہات سے اس نادیدہ عالم کے احوال کو ہمارے ذہن کے قریب لایا جاسکتا ہے، قران ان کے ریعہ سے ان کو ہمارے ذہن کے قریب کرتا ہے۔ رہی ان کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ دوزخ کے محل یا جنت کے کنگن اور سندس اور استبرق کی حقیقت یہاں نہیں معلوم کی جاسکتی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ قرآن ان چیزیں کے بیان میں اہل عرب ہی کی معلومات اور انہی کے ذوق کو ملحوظ رکھتا ہے اس لیے کہ تشبیہ و تمثیل میں موثر وہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے مخاطب واقف ہوں۔