Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 29

  1. وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا﴿29﴾

    1. وَقُلِاور کہ دیں
    2. الْحَقُّحق
    3. مِنْسے
    4. رَّبِّكُمْتمہارا رب
    5. فَمَنْپس جو
    6. شَآءَچاہے
    7. فَلْيُؤْمِنْسو ایمان لائے
    8. وَّمَنْاور جو
    9. شَآءَچاہے
    10. فَلْيَكْفُرْسو کفر کرے (نہ مانے)
    11. اِنَّآبیشک ہم
    12. اَعْتَدْنَاہم نے تیار کیا
    13. لِلظّٰلِمِيْنَظالموں کے لیے
    14. نَارًاآگ
    15. اَحَاطَگھیر لیں گی
    16. بِهِمْانہیں
    17. سُرَادِقُهَااس کی قناتیں
    18. وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْااور اگر وہ فریاد کریں گے
    19. يُغَاثُوْاوہ داد رسی کیے جائینگے
    20. بِمَآءٍپانی سے
    21. كَالْمُهْلِپگھلے ہوئے تانبے کی مانند
    22. يَشْوِيوہ بھون ڈالے گا
    23. الْوُجُوْهَمنہ (جمع)
    24. بِئْسَ الشَّرَابُبرا ہے پینا (مشروب)
    25. وَسَآءَتْاور بری ہے
    26. مُرْتَفَقًاآرام گاہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کہہ دو یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے، تو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی۔ اور اگر وہ اپنی کے لیے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا، چہروں کو بھون ڈالے گا۔ کیا ہی برا پانی ہوگا ! اور کیا ہی برا ٹھکانا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا۔ متکبرین کو آگاہی دے دو کہ یہی بات حق ہے جو خدا کی طرف سے اتری ہے اور جو میں نے تمہیں پہنچا دی ہے۔ اب کسی کے کفر و ایمان کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے جس کا جی چاہے ایمان لائے، جس کا جی چاہے کفر کرے۔ جو کفر کریں گے تو ایسے ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی اور جب یہ پانی پانی پکاریں گے تو ان کو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کا پانی دیا جائے گا جو چہروں کو بھون کے رکھ دے گا۔ نہ پانی کی برائی کی کوئی حد ہوگی نہ ٹھکانے کی دونوں کی ہولناکی ایک سے ایک بڑھ کر۔ مرتفقا کے معنی ٹیک لگانے کی جگہ کے ہیں۔ ہم نے اس کے وسیع مفہوم کے اعتبار سے اس کا ترجمہ ٹھکانا کیا ہے۔ شوی یشوی کے معنی بھوننے کے ہیں۔ مھل (پگھلے ہوئے تانبے) کے لیے اس کا استعمال اس کی شدت وحدت کے اظہار کے لیے ہے۔