Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 57

  1. وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿57﴾

    1. وَمَنْاور کون
    2. اَظْلَمُبڑا ظالم
    3. مِمَّنْاس سے جو
    4. ذُكِّرَسمجھایا گیا
    5. بِاٰيٰتِآیتوں سے
    6. رَبِّهٖاس کا رب
    7. فَاَعْرَضَتو اس نے منہ پھیرلیا
    8. عَنْهَااس سے
    9. وَنَسِيَاور وہ بھول گیا
    10. مَا قَدَّمَتْجو آگے بھیجا
    11. يَدٰهُاس کے دونوں ہاتھ
    12. اِنَّا جَعَلْنَابیشک ہم نے ڈال دئیے
    13. عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
    14. اَكِنَّةًپردے
    15. اَنْکہ
    16. يَّفْقَهُوْهُوہ اسے سمجھ سکیں
    17. وَاور
    18. فِيْٓمیں
    19. اٰذَانِهِمْان کے کان
    20. وَقْرًاگرانی
    21. وَاِنْاور اگر
    22. تَدْعُهُمْتم انہیں بلاؤ
    23. اِلَىطرف
    24. الْهُدٰىہدایت
    25. فَلَنْتو وہ ہرگز
    26. يَّهْتَدُوْٓانہ پائیں ہدایت
    27. اِذًاجب بھی
    28. اَبَدًاکبھی بھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جن کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے یاد دہانی کی جائے تو وہ اس سے اعراض کریں اور اپنے ہاتھوں کی کرتوت کو بھول جائیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے کہ اس کو نہ سنیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا بدقسمتوں کے حال پر افسوس : یہ ان بدقسمت لوگوں کی حالت پر افسوس کیا ہے کہ اپنی جانوں پر ان سے بڑھ کر ظلم ڈھانے والا کون ہوسکتا ہے جن کو آیات الٰہی کے ذریعے سے یاد دہانی کی جائے لیکن وہ اس سے نفع اٹھانے کے بجائے ان کو ٹھکرائیں اور عذاب کا مطالبہ کریں اور یہ نہ سوچیں کہ جو اعمال انہوں نے کیے ہیں ان کی بنا پر وہ ہر وقت عذاب الٰہی کے سزاوار ہیں۔ اگر ان کو مہلت مل رہی ہے تو محض خدا کی رحمت کے سبب سے مل رہی ہے۔ ختم قلوب کی سزا : فرمایا کہ یہ اپنی کرتوتوں کے سبب سے ختم قلوب کے سزوار ہوچکے ہیں اس وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے کہ وہ اس کو نہ سنیں گویا اصل تالیفِ کلام یوں ہوگی۔ اکنۃ ان یفقہوہ و فی اذانہم وقرا من ان یسمعوہ۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق " ان " سے پہلے من یا کراھۃ کا لفظ محذوف ہوگیا اور تقابل کے اصول پر فی اذانہم وقرا کے بعد ان یسمعوہ کے الفاظ حذف ہوگئے۔ وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا۔ ظاہر ہے کہ جب خدا کے قانون کے تحت ان کے دلوں پر پردے پڑچکے ہیں اور ان کے کان بہرے ہوچکے ہیں تو اب تم ان کو لاکھ اللہ کی آیات سناؤ وہ ہدایت قبول کرنے والے نہیں بن سکتے۔ اب ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو اور صبر کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو تاآنکہ ان پر اچھی طرح حجت تمام ہوجائے۔