Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 176

Tafseer
  1. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ع﴿176﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. بِاَنَّاس لیے کہ
    3. اللّٰهَاللہ
    4. نَزَّلَنازل کی
    5. الْكِتٰبَکتاب
    6. بِالْحَقِّحق کے ساتھ
    7. وَاِنَّاور بیشک
    8. الَّذِيْنَجو لوگ
    9. اخْتَلَفُوْااختلاف کیا
    10. فِيمیں
    11. الْكِتٰبِکتاب
    12. لَفِيْمیں
    13. شِقَاقٍضد
    14. بَعِيْدٍدور
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ نے اپنی کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملہ میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس ناراضگی اور غضب کا سبب بیان ہو رہا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب کے مستحق اس وجہ سے ٹھہریں گے کہ خدا نے ان کو راہ رست پر لانے کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو تمام جھگڑوں اور سارے اختلافات کو چکا دینے والی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی ہدایت کی جگہ ضلالت ہی کو اختیار کیا تو یہ اسی بات کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر التفات سے محروم ہو کر اس عذاب میں پڑیں جس سے ان کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو۔ اس میں بِالْحَـقِّ کے لفظ سے مراد یہ ہے کہ خدا نے یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ یعنی اہل کتاب نے حق پوشی اور تحریف کر کے اللہ کے دین میں جو طرح طرح کے اختلافات پیدا کردئیے تھے اور جس کے سبب سے یہ معلوم کرنا سخت مشکل ہوگیا تھا کہ کیا حرام ہے، کیا حلال، کیا حق ہے اور کیا باطل، اللہ نے قرآن کے ذریعہ سے اس اختلاف و نزاع کو بالکل رفع کردیا، اب حق کی راہ ہر طالب حق کے لیے پھر کھل گئی ہے اور خدا کی شریعت اپنی صحیح اور مکمل شکل میں لوگوں کے سامنے آگئی ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ انہی جھگڑوں میں پڑے رہیں تو ان کی شامت اور بدبختی ہی ہے۔ شقاق کے معنی مخالفت اور عناد کے ہیں۔ چناچہ فرمایا ہے لفظ حق کے مختلف معانی کی تحقیق آیت 71 کے تحت ملاحظہ ہو۔ یہاں مراد قول فیصل ہے وَيَا قَوْمِ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ (ھود :89) ، اے میری قوم کے لوگو، میری مخالفت اور دشمنی تمہارے لیے اس بات کا باعث نہ بن جائے کہ تمہارے اوپر بھی اس طرح کا عذاب آدھمکے جس طرح کا عذاب قوم نوح پر آیا۔۔ شقاق کے ساتھ جب بعید کی صفت لگ جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کسی شخص یا چیز کی مخالفت اور دشمنی میں کوئی شخص اس قدر آگے بڑھ جائے اور اتنی دور نکل جائے کہ اس کو اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ ہوش نہ رہا جائے، اور پھر اس کے لیے اتنی دور سے پلٹنے اور تلافی مافات کرنے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے۔ ان اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ تورات کے بعد اب قرآن میں بھی انہوں نے یہ جو اختلاف کیا ہے یہ محض ان کی ضدم ضدا کا کرشمہ ہے اور یہ اب اس راہ میں اتنی دور تک نکل گئے ہیں کہ ان کے واپس لوٹنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا ہے۔