Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 10

  1. اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى﴿10﴾

    1. اِذْ رَاٰجب اس نے دیکھی
    2. نَارًاآگ
    3. فَقَالَتو کہا
    4. لِاَهْلِهِاپنے گھروالوں کو
    5. امْكُثُوْٓاتم ٹھہرو
    6. اِنِّىْٓبیشک میں نے
    7. اٰنَسْتُدیکھی ہے
    8. نَارًاآگ
    9. لَّعَلِّيْٓشاید میں
    10. اٰتِيْكُمْتمہارے پاس لاؤں
    11. مِّنْهَااس سے
    12. بِقَبَسٍچنگاری
    13. اَوْیا
    14. اَجِدُمیں پاؤں
    15. عَلَي النَّارِآگ پر۔ کے
    16. هُدًىراستہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ اس نے دیکھا ایک شعلہ تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ ذرا ٹھہرو، مجھے آگ نظر آئی ہے، تاکہ میں اس میں سے ایک انگارہ لائوں یا ممکن ہے مجھے وہاں راستہ کا کچھ سراغ مل جائے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اذرا نارا فقال لاھلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منھا بقیس او اجد علی النار ھدی (10) حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت ابتدائے نبوت سے یہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا آغاز اس وقت سے کیا ہے جب ان کو نبوت عطا ہوئی ہے۔ مدین سے واپسی پر جب وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ وادیٔ طور کے پاس پہنچے تو شب کا وقت تھا۔ راستہ کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا اور سردی بھی معلوم ہوتا ہے کہ سخت تھی۔ اتنے میں ایک سمت سے انہیں شعلہ سا نظر آیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے ایک شعلہ سا دکھائی دیا ہے، میں وہاں جاتا ہوں یا تو وہاں سے تمہارے تاپنے کے لئے، جیسا کہ سورة قصص میں تصریح ہے، کوئی انگارہ لائوں گا یا وہاں کچھ لوگ ہوئے تو اس سے راستہ معلوم کرلوں گا اور ہمارا سفر جاری رہ سکے گا۔ ایک شعلہ مستعجل کا مشاہدہ ”انست“ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کو جو آگ نظر آئی اس کی نوعیت آگ کے کسی جلتے ہوئے الائو کی نہیں بلکہ ایک شعلہ مستعجل کی تھی جو چمکا اور غائب ہوگیا۔ اس لئے یہ لفظ تاڑنے اور بھانپنے کے لئے آتا ہے۔ بس ایک چمک سی نظر آئی اور دفعۃً غائب ہوگئی۔ حضرت موسیٰ ؑ کے سوا اس کو کسی نے شاید دیکھا بھی نہیں۔ اگر بھڑکتی ہوئی آگ ہوتی تو حضرت موسیٰ ؑ یوں کہتے کہ دیکھو وہ سامنے آگ جل رہی ہے، میں یا تو وہاں سے راستہ معلوم کرتا ہوں اور اگر وہاں کوئی نہ ملا تو پھر تاپنے کا کچھ سامان کرتا ہوں تاکہ سردی میں بچائو کا کچھ سامان ہو سکے۔