Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 11

  1. فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ﴿11﴾

    1. فَلَمَّآپس جب
    2. اَتٰىهَاوہ وہاں آئے
    3. نُوْدِيَآواز آئی
    4. يٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
11.12: جب حضرت موسیٰ اس مقام پر پہنچے جہاں ان کو شعلہ نظر آیا تھا تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں۔ یعنی تم تو آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں ہے بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔ تواضع کی ہدایت اور اس کے آداب فاخلع نعلیک پہلی ہدایت یہ ہوئی کہ جوتے اتار دو۔ جوتے اتار کر حاضر ہونا صرف طہارت ہی کے آداب میں سے نہیں بلکہ تواضح کے آداب میں سے بھی ہے۔ چناچہ ہمارے ہاں مسجد کے احترام کے لئے بھی اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ مسجد خدا کے سامنے حاضری کی جگہ ہے جس کے لئے طہارت اور تواضح دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جوتے صاف ہوں تو ان کے ساتھ مسجد میں جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے اس لئے کہ یہ تواضح کے خلاف ہے اور مسجد کی حاضری کے لئے جس طرح طہارت شرط ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تواضح شرط ہے۔ انک بالواد المقدس طوی یہ اس ہدایت کی علت واضح فرمائی ہے کہ تم اس وقت طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ طوی اس میدان کا نام ہے جو جزیرہ نمائے سینا میں کوہ سینا کے دامن میں واقع ہے۔ کسی پہاڑ یا وادی یا رقبہ زمین کا تقدس ایک امر اضافی ہے۔ زمین ساری خدا کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے کسی ٹکڑے کو کسی دوسرے ٹکڑے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے حالانکہ کسی ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی خاص نسبت ہو ائے۔ اس وادی کو یہ خاص شرف حاصل ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنی تجلی اور اپنے کلام سے نوازا اس وجہ سے اس کو تقدس کا درجہ حاصل ہوگیا۔