Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 9

  1. وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ﴿9﴾

    1. وَهَلْاور کیا
    2. اَتٰىكَتمہارے پاس آئی
    3. حَدِيْثُبات۔ خبر
    4. مُوْسٰىموسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کیا موسیٰ ؑ کی سرگزشت تمہارے علم میں آئی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون … آیات 9 تا 98 اوپر کے مجموعہ آیات میں نبی ﷺ کو جو تسکین و تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی روشنی میں دی گئی ہے۔ اب آگے حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت آرہی ہے جس میں وہی حقیقتیں، جو اوپر علمی انداز میں بیان ہوئی ہیں، چلتی پھرتی عملی زندگی میں دکھا دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور ان میں اللہ کی مدد نے جس طرح ان کو سہارا دیا، ان کی تفصیل اس سرگزشت میں آگئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے آگے جو مراحل آنے والے تھے ابھی ان کا بہت بڑا حصہ پس پردہ تھا اس سرگزشت نے ان مراحل کو بھی آپ ﷺ کے سامنے کردیا اور ان کے لئے جن تیاریوں کی ضرورت تھی ان کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ زندگی عملی مثالوں سے جس قدر متاثر ہوتی ہے دوسری کسی چیز سے اس قدر متاثر نہیں ہوتی۔ خاص طور پر ایک نبی کی سرگزشت دوسرے نبی کے لئے تو سمجھئے کہ بس اس کی اپنی ہی آپ بیتی ہوتی ہے۔ … اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وھل اتک حدیث موسیٰ (9) اس امت کے لئے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کی خاص اہمیت یہ اسلوب بیان قرآن میں تہدید و وعید کے لئے بھی آیا ہے اور ترغیب و تشویق کے لئے بھی۔ یہاں موقع محل دلیل ہے کہ یہ ترغیب و تشویق کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے موسیٰ کی سرگزشت سنی ہے ؟ یہ سرگزشت ہم تمہیں سناتے ہیں۔ اس میں ان تمام سوالوں کا جواب مل جائے گا جو دعوت کے اس مرحلہ میں تمہارے سامنے موجود ہیں، یا آگے کے مراحل میں پیش آنے والے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت قرآن میں مختلف اسلوبوں سے جو بار بار بیان ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی امت ہی کی وراثت ہے جو آنحضرت ﷺ کی امت کو منتقل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ سے پیشتر صاحب شریعت نبی حضرت موسیٰ ؑ ہی تھے۔ ان کو اپنی امت کی تشکیل میں جو زہرہ گداز مراحل پیش آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جس جس طرح نصرت فرمائی وہ ساری باتیں آنحضرت ﷺ کے لئے نہایت سبق آموز تھیں اور بنی اسرائیل نے قدم قدم پر جو ٹھوکریں کھائیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح و تربیت کے لئے جو ہدایات دیں وہ اس امت کے لئے درس عبرت ہیں۔ اس سرگزشت کو پڑھتے ہوئے اس کی اس اہمیت کو نظر انداز نہ کیجیے۔ یہ دوسروں ہی کی نہیں بلکہ اپنی بھی حکایت ہے۔