تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 102
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ﴿102﴾
- يَّوْمَجس دن
- يُنْفَخُپھونک ماری جائیگی
- فِي الصُّوْرِصور میں
- وَنَحْشُرُاور ہم اکٹھا کرینگے
- الْمُجْرِمِيْنَمجرموں کو
- يَوْمَئِذٍاس دن
- زُرْقًانیلی آنکھیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اس دن ہم اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ خوف کے مارے ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 102
رزق، ازرق کی جمع ہے۔ ازرق نیلگوں چشم کو کہتے ہیں لیکن عربی محاورہ میں یہ خوف زدہ اور دہشت گردی آدمی کے لئے بھی آتا ہے اس لئے کہ شدت خوف کی حالت میں آنکھیں نیلی پڑجایا کرتی ہیں اور ان کے سرخ ڈورے غائب ہوجاتے ہیں۔
اوپر والی آیت میں جس قیامت کا ذکر ہے یہ اس کی تصویر ہے کہ اس دن کو یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا یہ مجہول کا صیغہ اس کی ہولناکی کی تعبیر کے لئے ہے کہ ایک ہولناک آواز ایک ہلچل تو برپا کر دے گی لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ فرمایا کہ اس دن ہم ان تمام مجرموں کو جو ہماری اس یاد دہانی سے برگشتہ ہیں اور دوسروں کو بھی برگشتہ کر رہے ہیں اکٹھا کریں گے اور آج تو وہ بڑی ڈھٹائی سے ہماری تنبیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن اس دن سب کی آنکھیں خوف سے نیلی پڑی ہوں گی۔