Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 103

  1. یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا﴿103﴾

    1. يَّتَخَافَتُوْنَآہستہ آہستہ کہیں گے
    2. بَيْنَهُمْآپس میں
    3. اِنْنہیں
    4. لَّبِثْتُمْرہے تم
    5. اِلَّامگر (صرف)
    6. عَشْرًادس دن
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ بس تم دس دن رہے ہو گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک مغالطہ کا ازالہ یعنی آج تو یہ قیامت سے بالکل نچنت اور بےخوف ہیں۔ اول تو اس کو بہت بعید از امکان چیز سمجھتے ہیں اور اگر کسی درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو یہ خیال کر کے بےفکر ہوجاتے ہیں کہ زندگی، پھر موت، پھر برزخ پھر قیامت یہ اتنی دور کی بات ہے کہ اس کی فکر میں ابھی سے اپنے عیش کو مکدر کرنا حماقت ہے۔ فرمایا کہ آج تو یہ اس کو بہت دور کی چیز سمجھتے ہیں لیکن جب وہ آن کھڑی ہوگی تو آپس میں ایک دور سے سے سرگوشی کریں گے اور کہیں گے کہ ان سارے مراحل پر زیادہ سے زیادہ بس دس دن گزرے ہوں گے ! یہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ برزخی زندگی کا قیامت کے دن کوئی احساس نہیں ہوگا، ایسا معلوم ہوگا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ رہی یہ دنیا کی زندگی تو جب تک یہ ہے اس وقت تک تو آدمی اسی مغلاطہ میں رہتا ہے کہ ابھی بہت عمر باقی ہے لیکن جب وقت آخر آجاتا ہے تب محسوس ہوتا ہے کہ جس چیز کو بہت طویل سمجھے تھے وہ بہت مختصر نکلی خاص طور پر غفلت میں جو زندگی گزرتی ہے وہ آنکھ کھلنے کے بعد بس ایک خواب معلوم ہوتی ہے۔ قرآن نے اسی غفلت پر یہاں متنبہ کیا ہے کہ اصل اعتبار آج کے احساس کا نہیں کہ یہ تو یکسر مغالطہ ہے بلکہ اس احساس کا ہے جو حقیقت کے سامنے آنے کے بعد ہوگا۔