Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 111

  1. وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا﴿111﴾

    1. وَعَنَتِجھک جائیں گے
    2. الْوُجُوْهُچہرے
    3. لِلْحَيِّسامنے ” حی “
    4. الْقَيُّوْمِ” قیوم “
    5. وَقَدْ خَابَاور نامراد ہوا
    6. مَنْجو۔ جس
    7. حَمَلَبوجھ اٹھایا
    8. ظُلْمًاظلم
Translation · Tadabbur-e-Quran
سب کے چہرے خدائے حی وقیوم کے حضور جھکے ہوئے ہوں گے اور جو کسی شرک کا مرتکب ہو اور وہ نامراد ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عنو کے معنی فروتنی اور عجز و تذلل کے اظہار کے ہیں اور ظلم سے مراد جیسا کہ ہم متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں، شرک ہے۔ شفاعت باطل کے امیدواروں کے ایک زعم کی تردید یہ شفاعت باطل کے امیدواروں کے ایک اور زعم باطل کی تردید ہے۔ وہ اپنے جن مزعومہ شرکاء کو اپنا سفارشی سمجھے بیٹھے تھے ان کے متعلق یہ گمان بھی رکھتے تھے کہ خدا کے ہاں ان کو بڑے ناز و تذلل کا مقام حاصل ہے۔ وہ جو بات چاہیں خدا کے سامنے جرأت و اعتماد اور ناز و اصرار کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں اور خدا کو ان کی ناز براداری اس قدر محبوب و مطلوب ہے کہ وہ بہرحال ان کی بات مانتا اور ان کی سفارش پوری کرتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس قسم کے واہمہ میں مبتلا ہیں وہ اس کو اپنے ذہن سے نکال ڈالیں۔ خدا کے سامنے کسی کو بھی ناز و تدلل کا مقام حاصل نہیں ہے۔ اس کے سامنے ناز و تدلل کے بجائے سب کے چہرے خشیت و تذلل کے ساتھ جھکے ہوئے ہوں گے۔ یہاں اسمائے حسٰی میں سے حی اور قیوم کا حوالہ ہے ان اسماء کے حوالہ کا ایک خاص محل ہے۔ مشرکین عرب کے متعلق ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ جہاں تک خدا کے ماننے کا تعلق ہے وہ خدا کو مانتے تھے لیکن اپنے شرکیہ عقائد کے تحت اس کی حیثیت انہوں نے بالکل وہ بنا کے رکھ دی تھی جو معاذ اللہ گھر کے ایک بڑے بوڑھے ناکارہ وجود کی ہوتی ہے جو اپنی ساری ذمہ داریاں دوسروں کے سپرد کر کے خود گوشہ نشین بن کے بیٹھ جاتا ہے۔ اس تصور نے ان کو خدا سے بالک بےنیاز کر کے ان کا سارا اعتماد ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر جما دیا تھا۔ یہاں قرآن نے ان کے اس زعم باطل پر بھی ضرب لگائی اور فرمایا کہ خدا کوئی ناکارہ وجود نہیں بلکہ زندہ خدا ہے اور اپنی پیدا کی ہوئی اس دنیا کے سارے معاملات و دوسروں کے اوپر چھوڑ کر کسی گوشہ میں ایک خاوش علتہ العلل بن کر نہیں بیٹھا ہے بلکہ قیوم یعنی اس کائنتا کے سارے نظم کو سنبھال ہئوے ہے اور اس کو خود اپنی نگرانی اور اہتمام میں چلا رہا ہے۔ شرک باعث نامرادی ہے وقد خاب من حمل ظلما ظلم سے مراد شرک ہے اور یہاں اس لفظ کی تنکیر اس بات پر دلیل ہے کہ شرک کی جس نوع کا بھی کوئی مرتکب ہوگا وہ آخرت میں خاسر اور نامراد ہوگا۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی شخص بت پرستی کرے بلکہ اس کی جلی اور خفی بہت سی قسمیں ہیں اور اس کی ہر قسم باعث خسران و نامرادی ہے۔ ہم اس کی مختلف قسموں کی وضاحت اپنی اس کتاب میں بھی موقع موقع سے کر رہے ہیں اور اس موضوع پر حقیت شرک کے عنوان سے ہم نے مستقل کتاب بھی کلھی ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔