Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 112

  1. وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا﴿112﴾

    1. وَمَنْاور جو
    2. يَّعْمَلْکرے
    3. مِنَسے۔ کوئی
    4. الصّٰلِحٰتِ وَنیکی اور (بشرطیکہ)
    5. هُوَوہ
    6. مُؤْمِنٌمومن
    7. فَلَا يَخٰفُتو نہ اسے خوف ہوگا
    8. ظُلْمًاکسی ظلم کا
    9. وَّلَا هَضْمًااور نہ کسی نقصان کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو نیک اعمال کرے گا اور وہ مومن بھی ہے تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ظلم اور ہضم کا مفہوم ظلم اور ہضم دونوں لفظ جب ایک ساتھ استعمال ہوں تو ظلم کے اندر حق تلفی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ہضم کے اندر غضب اور تعدی کا یعنی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی کا حق جو آپ پر عائد ہوتا ہے آپ اس کو دبا بیٹھیں یہ ظلم ہے دوسری صورت یہ ہے کہ آپ تعدی کر کے دوسرے کے پاس جو کچھ ہے اس کو چھیننے اور غصب کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہضم ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا کہ جو کسی نوع کے شرک کا مرتکب ہوا وہ نامراد ہو۔ یہ اس کے مقابل میں فرمایا کہ جو اعمال صالحہ کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو وہ اپنے اعمال کا بھرپور صلہ پائے گا۔ نہ اس کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی تعدی کا وھو مومن کا مفہوم ظاہر ہے کہ یہاں یہ ہے کہ وہ توحید پر قائم رہتے ہوئے نیک اعمال کیر۔ اگر اس میں شرک کی کوئی آلودگی ہو تو پھر اس کے اعمال کی خدا کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں ہے۔ اگر کوئی عمل خدا کی رضا مندی کے لئے نہ کیا جائے بلکہ کسی اور غرض کے لئے کیا جائے تو اس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے اگرچہ وہ بظاہر نیکی ہی کام کام کیوں نہ ہو !