تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 113
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا﴿113﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- اَنْزَلْنٰهُہم نے اس پر نازل کیا
- قُرْاٰنًاقرآن
- عَرَبِيًّاعربی
- وَّصَرَّفْنَا فِيْهِاور ہم نے طرح طرح سے بیان کیے اس میں
- مِنَسے
- الْوَعِيْدِڈراوے
- لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
- يَتَّقُوْنَپرہیزگار ہوجائیں
- اَوْ يُحْدِثُیا وہ پیدا کردے
- لَهُمْان کے لیے
- ذِكْرًاکوئی نصیحت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا اور اس میں ہم نے اپنی وعید گوناگوں پہلوئوں سے واضح کردی ہے تاکہ یہ لوگ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر کچھ سوجھ بوجھ پیدا کرے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل سلسلہ کلام نئی تمہید کے ساتھ
اس کا طف اوپر والی بات پر ہے جہاں سے یہ سلسلہ کلام چلا ہے۔ آیات 100-99 میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے خاص اپنے پاس سے تمہیں یہ یاد دہانی (قرآن) عطا فرمائی ہے تو جو اس سے منہ موڑیں گے وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اس کے بعد انذار کے لئے قیامت کا ذکر آگیا تھا۔ قیامت کے ذکر کے بعد وہی اصل مضمون ایک نئی تمہید اور مزید تفصیل کے ساتھ از سر نو آگای۔ فرمایا کہ اسی مقصد تذکیر کے لئے ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں اتارا ہے اور اس میں گوناگوں پہلوئوں سے ان عواقب و نتائج کی وضاحت کردی ہے جن سے اس کی تکذیب کرنے والوں کو لازماً دوچار ہونا پڑے گا تاکہ لوگ اگر تقویٰ اور خدا ترسی کی راہ اختیار کرنا چاہیں تو وہ اتخیار کریں اور اگر یہ نہیں تو پھر ہماری طرف سے ان کو یاد دہانی ہوجائے تاکہ اگر وہ ہماری پکڑ میں آئیں تو وہ یہ عذر نہ کرسکیں کہ ان کو یاد دہانی نہیں کی گئی۔
اہل عرب پر قرآن کا اتمام حجت
قرانا عبریاً کے الفاظ یہاں اہل عرب پر بطور اظہار احسان و امتنان کے بھی ہیں اور بطور اتمامح جت و قطع عذر کے بھی مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کو عربی زبان میں اتار کر ان لوگوں پر اپنا سب سے بڑا فضل بھی فرمایا کہ اپنی تذکیر وتعلیم کے لئے انہی کی زبان کو منتخب کیا اور اس طرح ان پر حجت بھی تمام ہوگئی۔ اب یہ قیامت کے روز یہ عذر نہیں کرسکتے کہ اگر ان کے پاس کوئی رسول، ان کی اپنی زبان میں کوئی کتاب لے کر آتا تو یہ سب سے زیادہ ہدایت کے اختیار کرنے والے بنتے۔ اس قرآن نے ان تمام عذرات کا خاتمہ کردیا !
صرفنا فیہ من الوعید تصریف کا مفہمو ہم متعدد جگہ واضح کرچکے ہیں کہ کسی بات کو گوناگوں و بوقلموں اسالیب سے پیش کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ کتاب ہم نے ان کی اپنی زبان عربی میں اتاری پھر یہ کہ اس سے اعراض کے جو نتائج ہوں گے ان کو مبہم نہیں چھوڑا بلکہ ان کو عقل کے نقل کے تاریخ کے آفاق کے انفس کے دلائل سے اچھی طرح مبرہن کردیا ہے۔ اب اگر اس اہتمام کے بعد بھی یہ اس سے فائدہ نہ اٹھائیں تو نتائج کی ذمہ داری خود ان پر ہے !
لعلھم ینقون اویحدث لھم ذکرا یعنی اصل مقصود تو اس تمام اہتمام سے ہے کہ ان کے اندر تقویٰ اور خدا ترسی پیدا ہو اور اگر یہ نہیں تو ان کو ہماری طرف سے یاد دہانی ہوجائے کہ وہ اس دنیا میں کس لئے برپا کئے گئے تھے اور اب کا ہ بنا رہے ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ قرآن نے عربوں کو ان کی وہ اصل تاریخ بھی از سر نو یاد دلائی ہے۔ جب حضرت ابراہیم نے ان کے باپ حضرت اسماعیل کو اس سرزمین میں ایک خاص مشن کے ساتھ بسایا تھا۔ اس کی وضاحت دوسرے سے مقامات میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے۔ آیت میں احداث کا لفظ اسی پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ احداث ذکر کا اصل مفہم کسی سرگزشت کی از سر نو یاد دہانی ہے۔