تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 114
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴿114﴾
- فَتَعٰلَى اللّٰهُسو بلندو برتر ہے اللہ
- الْمَلِكُبادشاہ
- الْحَقُّسچا
- وَلَااور نہ
- تَعْجَلْجلدی کرو
- بِالْقُرْاٰنِقرآن میں
- مِنْ قَبْلِاس سے قبل کہ
- اَنْکہ
- يُّقْضٰٓىپوری کی جائے
- اِلَيْكَپوری کی جائے
- وَحْيُهٗاس کی وحی
- وَقُلْاور کہیے
- رَّبِّاے میرے رب
- زِدْنِيْزیادہ دے مجھے
- عِلْمًاعلم
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اللہ بادشاہ حقیقی بہت برتر ہے۔ پس تم قرآن کے لئے، اپنی طرف اس کی وحی پوری کئے جانے سے پہلے جلدی نہ کرو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب میرے علم میں افرونی فرما
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نزول قرآن کے لئے آنحضرت کے اندر بےقراری کی اصل وجہ
اس آیت کا صحیح مفہوم ذہن نشین کرنے کے لئے سورة مریم کی آیات 65-64 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے مخالفین کی تمام مخالفتوں اور ژاژخائیوں کے مقابلہ کے لئے آنحضرت صلعم کے پاس واحد ہتھیار قرآن ہی تھا۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے اترنے کے لئے آپ کے اندر ایک بےقراری اور بےچینی پائی جاتی تھی۔ اسی سے مشکلات میں آپ کو رہنمائی ملتی تھی، یہی چیز الجھنوں اور پریشانیوں میں تسلی کا ذریعہ بنتی تھی اور مخلافین جو نت نئے مطالبات و اعتراضات روز روز پیش کرتے ان کے فیصلہ کن جواب بھی قرآن ہی دے سکتا تھا۔ ان وجوہ سے اس سپاہی کی طرح جو دشمنوں کی دل بادل فوج کے مقابل میں نبرد آزما ہو، آپ کو ہر وقت اس آسمانی کمک کا انتظار رہتا۔ حضور کی اسی پریشانی کو دور کرنے کے لئے ارشاد ہوا کہ تم قرآن کے اتارے جانے کے لئے جلدی نہ کرو خدا کی ذات بڑی ہی برتر اور بلند ہے۔ اپنی حکمتوں اور مصلحتوں کو وہ خود ہی جانتا ہے۔ وہی اس کائنات کا بادشاہ حقیقی ہے اور تم جو یاد دہانی لوگوں کو سنا رہے ہو وہ اسی بادشاہ حقیقی کا فرمان ہے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے۔ تم لوگوں کے ردر قبول سے بالکل بےنیاز ہو کر جس تدریج اور ترتیب سے یہ اتر رہا ہے لوگوں کے سناتے رہو۔ اس کی تکمیل کے لئے خدا نے جو مدت مقرر کر رکھی ہے وہ اس کی حکمت و مصلحت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس مدت سے پہلے اس کے اتار دیئے جانے کے لئے جلدی نہ کرو۔ البتہ یہ دعا برابر کرتے رہو کہ اے رب میرے علم کو زیادہ کر !
یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اسی سیاق وسباق کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ہمارے مفسرین نے ان آیات کو اس محدود مفہوم میں لیا ہے کہ حضرت جبریل جب آنحضرت کو وحی سنات تو آپ اس کو سیکھنے میں عجلت کردیتے جس پر آپ کو ٹوکا گیا اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ جس چیز کے لئے شوق و بےقرار ہو، جذبہ شوق اس کے لئے جلد باز بنا دیتا ہے۔ ہمارے پاس اگر کوئی ایسا نامہ محبت آئے جس کے لئے ہم نے بےچینی کی گھڑیاں گزاری ہوں تو ہم یہی چاہیں گے کہ اس کو ایک ہی سانس میں پورا پڑھ ڈالیں۔ یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور قرآن کے معاملہ میں حضور کے اندر یہ جذبہ ضرور رہا ہوگا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کہ یہاں آپ کو اس چیز پر ٹوکا گیا ہے۔ اس کا اصل پس منظر وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ آگے بھی اس مضمون کی آیات جگہ جگہ آئیں گی۔ ان سے انشاء اللہ بات پوری طرح واضح ہوجائے گی۔