تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 115
وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ع﴿115﴾
- وَلَقَدْ عَهِدْنَآاور ہم نے حکم بھیجا
- اِلٰٓىطرف۔ کو
- اٰدَمَآدم
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- فَنَسِيَتو وہ بھول گیا
- وَلَمْ نَجِدْاور ہم نے نہ پایا
- لَهٗاس میں
- عَزْمًاپختہ ارادہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس سے پہلے آدم پر ایک عہد کی ذمہ داری ڈالی تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم کی پختگی نہیں پائی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عھد الی کا مفہوم ہم دوسری جگہ واضح کرچکے ہیں۔ یہ اسلوب بیان کسی کو کوئی خاص ہدایت یا وصیت تاکید و اہتمام کے ساتھ کرنے کے لئے آتا ہے۔
عجلت سے احتراز کی ہدایت
اوپر کی آیت میں آنحضرت کو قرآن کے معاملہ میں جلدی کرنے سے روکا ہے۔ اب اس جلدی کے نقصانتا واضح کرنے کے لئے حضرت آدم اور ابلیس کے ماجرے کا حوالہ دیا ہے کہ یہی عجلت آدم کے لئے مزلہ قدم ثابت ہوئی۔ انسانی فطرت کے اسی ضعف سے ابلیس نے فائدہ اٹھایا اور آدم کو ورغلا کر اللہ کی اس ہدایت سے غافل کردیا جو ان کو ایک خاص درخت کے پھل سے احتراز کے لئے کی گئی تھی۔ جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ آدم کو جنت سے نکل کر اس دنیا کے دارالابتلاء میں آنا پڑا۔ مقصود اس ماجرے کی یاد دہانی سے یہ ہے کہ یہ عجلت کسی کو بھی راس نہیں د آئی ہے۔ اوپر حضرت موسیٰ کی سرگزشت میں بھی یہ حقیقت واضح فرمائی گی کہ ان کی عجلت بھی ان کو راس نہیں آئی بلکہ ان کے اور ان کی قوم کے لئے ایک سخت آزمئاش بن گئی۔ ان واقعات کے پردے میں آنحضرت کو یہ تعلیم دی گی ہے کہ آپ بھی اپنی دعوت کے معاملے میں جلدی نہ کریں بلکہ صبر و عزم کے ساتھ درجہ بدرجہ جس طرح آپ کو ہدایت کی جا رہی ہے اپنے کام میں لگے ہیں اگر آپ نے جلدی کی تو، خواہ وہ کتنے ہی اچھے مقصد کے لئے ہو اس سے اندیشہ اس بات کا ہے کہ آپ کی امت کی تربیت میں خامی رہ جائے اور کوئی شیطان یا سامری اس سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو ایک فتنہ میں مبتلا کر دے۔
من قبل ماضی کی سرگزشت کی یاد دہانی ہے۔ یعنی جس طرح آج تمہیں عجلت نہ کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے اسی طرح پہلے تمہارے اور تمام نسل آدم کے باپ آدم ؑ کو بھی ہدیات کی گی تھی لیکن وہ اس کو ملحوظ رکھ سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے۔ چونکہ ماضی کے تجربات، بالخصوص جب کہ وہ اپنے ہی ابوالآباء کی زندگی سے تعلق رکھنے والے ہوں، نسل حاضر و مستقبل کے لئے نہایت سبق آموز ہوتے ہیں اس وجہ سے اشارہ فرما دیا کہ پہلے کے واقعات و تجربات کو پیش نظر رکھو۔
فنسی ولم یجدلہ عزماً نسی یہاں نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی حضرت آدم کو جو ہدایت کی گی ایک وقتی جذبہ علجت سے مغلوب ہ جانے کے سبب سے وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی اور وہ مضبوط عزم کے ساتھ اس پر قائم نہ رہ سکے۔ حضرت آدم کو جو ہدایت کی گئی تھی اور ان سے جو لغزش صادر ہوئی اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اس آیت میں صرف یہ حقیقت واضح فرمائی گی ہے کہ جذبات وداعیات جتنے بھی ہیں سب انسانی سرشت کے اجزاء ہیں لیکن ان کے لئے حدود وقیوم ہیں اگر وہ اپنے حدود کے اندر رہیں تب تو وہ فردا اور معاشرہ سب کے لئے خیر و برکت ہیں لیکن اگر ان میں سے کسی کی باگ ذرا ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو پھر وہ فرد اور سماج دونوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان داعیات و جذبات کو قابو میں رکھنے کے لئے آدمی کو اپنے اندر صبر اور عزم کی صفت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اسی صفت کو پیدا کر کے آدمی اپنے رہو اور نفس کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔ ورنہ معلوم نہیں کون سا جذبہ اس کو کس فتنہ میں مبتلا کر دے۔ عجلت بھی انسان کے جذبات میں سے ایک جذبہ ہے اور یہ اس کی سرشت میں داخل ہے۔ خلق الانسان من عجل (انبیاء 37) اور کان لانسان عجولاً (اسراء 11) وغیرہ آیات میں اسی حقتقا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن یہ انسان کے لئے نافع اسی وقت تک ہے جب تک یہ آدمی کے صبر اور عزم کے کنٹرول میں رہے۔ اگر یہ صبر اور عزم پر غالب ہوجائے تو پھر یہ انسان کے لئے بہت بڑا خطرہ بھی بن سکتا ہے۔
ولم نجدلہ عزماً عزم کا صحیح مفہوم صبر اور عزیمت و استقامت ہے، جس کا ضد بےصبری اور جلدی ابزی ہے۔ یہاں اصل مقصد کلام حضرت آدم کی بےصبری اور جلد بازی ہی کی طرف اشارہ کرنا اور اس کے عواقب سے آنحضرت کو آگاہ کرنا ہے۔