Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 116

  1. وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى﴿116﴾

    1. وَاِذْاور (یاد کرو) جب
    2. قُلْنَاہم نے کہا
    3. لِلْمَلٰٓئِكَةِفرشتوں کو
    4. اسْجُدُوْاتم سجدہ کرو
    5. لِاٰدَمَآدم کو
    6. فَسَجَدُوْٓاتو سب نے سجدہ کیا
    7. اِلَّآسوائے
    8. اِبْلِيْسَابلیس
    9. اَبٰىاس نے انکار کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس نے انکار کردیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اوپر والی آیت میں قصہ آدم و ابلیس کا وہ خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے جو یہاں اس کے بیان سے مدنظر ہے۔ اس کے بعد اب اصل قصہ کی تفصیل آرہی ہے۔ قصوں کی تفصیل سے پہلے ان کا خلاصہ نگاہ کے سامنے کردینے سے نظم کلام کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور یہ اسلوب بیان قران نے جگہ جگہ اتخیار کیا ہے۔ اصحاب کہف کے واقعہ کے بیان کرنے میں بھی قرآن نے یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے اور ہم اس کی وضاحت اس کے محل میں کرچکے ہیں۔ قصہ آدم و ابلیس کا سبق فرمایا کہ یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو تعظیم بجا لائو تو سب نے اس حکم کی تعمیل کی مگر ابلیس نے اس کی تعمیل سے انکار کردیا۔ یہ ماجرا سورة بقرہ اور اعراف میں بھی بیان ہوچکا ہے اور ہم وہاں اس کے ہر جزو پر تفصیل سے بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہوگی۔ بقرہ کی آیات 39-30 کے تحت تدبر قرآن جلد اول کے صفحات 130-112 پر اور اعراف کی آیات 14-11 کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس حکمی کی حکمت، سجدہ کی نوعیت، فرشتوں کے ساتھ اس حکم میں جنات کی شرکت کی علت، ابلیس اور اس کے غرور و اسکتبار، ہر چیز پر اپنے علم کے حد تک ہم نے گفتگو کی ہے۔