Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 117

  1. فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى﴿117﴾

    1. فَقُلْنَاپس ہم نے کہا
    2. يٰٓاٰدَمُاے آدم
    3. اِنَّبیشک
    4. ھٰذَایہ
    5. عَدُوٌّدشمن
    6. لَّكَتمہارا
    7. وَلِزَوْجِكَاور تمہاری بیوی کا
    8. فَلَاسو تمہیں
    9. يُخْرِجَنَّكُمَانہ نکلوا دے
    10. مِنَ الْجَنَّةِجنت سے
    11. فَتَشْقٰيپھر تم مصیبت میں پڑجاؤ
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ہم نے کہا کہ اے آدم، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو تم کو کہیں جنت سے نکال نہ چھوڑے کہ تم محروم ہو کر رہ جائو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ابلیس نے صرف سجدہ کرین ہی سے انکار نہیں کیا بلکہ جیسا کہ سورة اعراف کی آیات 22-14 کے تحت ہم وضاحت سے بیان کر آئے ہیں اس نے جوش حسد میں خود اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج کیا کہ اگر تو مجھے آدم اور اس کی ذریت کو ورغلانے کی مہلت دے دے تو میں یہ ثابت کردوں گا کہ نہ مجھ پر کسی فضیلت کے سزا وار ہیں اور نہ اس جنت کے حقدار ہیں بلکہ میں ان میں سے اکثر کو اپنا مرید و ہمنوا بنا لوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اس کو مہلت دے دی کہ جاتو جس کو ورغلا سکتا ہے ورغلالے میں تجھ کو اور تیرے سارے مریدوں کو جہنم میں جھونک دوں گا اور دوسری طرف حضرت آدم کو آگاہ فرما دیا کہ تم جنت میں رہو لیکن اس امر کو یا رکھو کہ ابلیس تمہارا ابدی دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں کسی گمراہی میں مبتلا کر کے جنت سے نکلوا چھوڑے اور تم محروم و نامراد ہو کر رہ جائو۔