Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 118

  1. اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ﴿118﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. لَكَتمہارے لیے
    3. اَلَّا تَجُوْعَیہ کہ نہ بھوکے رہو
    4. فِيْهَااس میں
    5. وَلَااور نہ
    6. تَعْرٰىننگے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس میں تم کو یہ مقام حاصل ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ننگے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 119-118 جنت آدم کی جامع تعریف ان دو آیتوں میں اس جنت کی نہایت ہی جامع تعریف ہے جس میں حضرت آدم رکھے گئے تھے۔ فرمایا کہ اس میں نہ تم بھوکے ہوگے نہ ننگے، نہ اس میں تمہیں پیاس ستائے گی۔ نہ دھوپ دوسرے لفظوں میں اگر اس بات کو کہنا چاہیں تو یوں کرسکتے ہیں کہ اس میں تم سردی اور گرمی دونوں کے آزاد سے محفوظ رہو گے۔ سردی کے آزار میں سے بھوک اور عریانی ہے اور گرمی کی تکالیف میں سے پیاس اور دھوپ جن لوگوں کی نظر اہل عرب کے کلام پر ہے وہ جاتنے ہیں کہ وہ بسا اوقات سردی اور گرمی کی تکالیف کا ذکر اسی طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ پیاس کا ذکر بھوک کے ساتھ اور دھوپ کا ذکر عریانی کے ساتھ زیادہ موزوں ہوتا۔ ہمارے نزدیک یہ رائے عربیت کے ذوق سے محرومی کا نتیجہ ہے۔