تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 121
فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ﴿121﴾
- فَاَكَلَاپس دونوں نے کھایا
- مِنْهَااس سے
- فَبَدَتْتو ظاہر ہوگئیں
- لَهُمَاان پر
- سَوْاٰتُهُمَاان کی شرم گاہیں
- وَاور
- طَفِقَا يَخْصِفٰنِوہ دونوں لگے جوڑنے (ڈھانپنے)
- عَلَيْهِمَااپنے اوپر
- مِنْسے
- وَّرَقِ الْجَنَّةِجنت کے پتے
- وَعَصٰٓىاور نافرمانی کی
- اٰدَمُآدم
- رَبَّهٗاپنا رب
- فَغَوٰىتو وہ بہک گیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان کے ڈھانکنے کی چیزیں عریاں ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر باغ کے پتے گانٹھنے گونتھنے لگے اور آدم نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی تو بھٹک گئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 121
اس آیت کی وضاحت بقرہ کی تفسیر میں بھی ہوچکی ہے اور اعراف کی آیت 2 ہ کے تحت بھی یہاں ان ساری باتوں کو دہرانے کی گنجائش نہیں ہے۔ غوی کے معنی صل وخاب کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم ابلیس کے چکمے میں آ کر شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو جو حلہ جنت پہنایا گیا تھا اور جس کی نسبت جیسا کہ آیت 118 میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ اس سے وہ کبھی محروم نہیں ہوں گے، وہ ان سے چھن گیا اور وہ گھبراہٹ میں باغ کے بتوں سے اپنے جسم کو ڈھانکنے لگے۔ وعصی ادم ربہ فغوی یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو جو ہدایت دی تھی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے جس کا نتیجہ یہ نکال کہ وہ صحیح راہ سے بھٹک گئے۔ وطفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ سے حضرت آدم و حوا کی اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہو رہا ہے جو دفعتاً حلہ جنت سے محروم ہوجانے کے باعث ان پر طاری ہوئی۔ انہوں نے تو ابدی جنت کے حصول کی طمع میں یہ اقدام کیا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ جو حاصل تھی وہ بھی ہاتھ سے گئی۔