تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 120
فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى﴿120﴾
- فَوَسْوَسَپھر وسوسہ ڈالا
- اِلَيْهِاسکی طرف (دل میں)
- الشَّيْطٰنُشیطان
- قَالَاس نے کہا
- يٰٓاٰدَمُاے آدم
- هَلْکیا
- اَدُلُّكَمیں تیری رہنمائی کروں
- عَلٰيپر
- شَجَرَةِدرخت
- الْخُلْدِہمیشگی
- وَمُلْكٍاور بادشاہت
- لَّا يَبْلٰىنہ پرانی (زوال پذیر) ہو)
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو شیطان نے اس کو ورغلایا، کہا کہ اے آدم، کیا میں تمہیں زندگی دوام کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کہنگی نہ آئے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 120
آدم پر ابلیس کا کامیاب حملہ
ابلیس اگرچہ استکبار اور حکم خداوندی کی نافرمانی کے باعث جنت سے راندہ ہوچکا تھا لیکن اس نے قیامت تک کے لئے آدم اور اولاد آدم پر اپنا چلتر آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت حاصل کرلی تھی اس وجہ سے وہ حضرت آدم کے پاس جنت میں بھی وسوسہ اندازی کے لئے پہنچ گیا اور ان کو سمجھایا کہ ایک خاص درخت کے پھل سے جو تمہیں روک دیا گیا ہے اس کا راز یہ ہے کہ ابدی زندگی اور ابدی بادشاہی کا درخت وہی ہے۔ اگر تم ابدی زندگی اور لازوال بادشاہی چاہتے ہو تو اس درخت کا پھل چکھو ورنہ آخر اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم اس جنت میں ہمہشا رہ گے ! اول تو انسان کے اندر یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ جس چیز سے روک دیا جائے اس کا حریض بن جایا کرتا ہے۔ ثانیاً حضرت آدم کو یہ کھٹکا بھی تھا کہ اس جنت سے وہ نکالے بھی جاسکتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انکو ڈرایا تھا کہ ابلیس تمہارا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو جنت سے نکلوا چھوڑے۔ ابلیس نے آدم کے اسی اندیشہ کو تاڑ لیا اور نہایت خیز خواہانہ انداز میں ان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ اگر وہ ابدی زندگی اور ابدی بادشاہی چاہتے ہیں تو انہیں اس درخت کا پھل کھا لینا چاہئے۔ اس خواہش کے غلبہ نے ان کو اس یاد دہانی سے بالکل غافل کردیا۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان کی دشمنی سے متعلق فرمائی تھی۔ وہ اپنے دشمن کو اپنا خیر خواہ سمجھ بیٹھے اور اس کے چکمہ میں آگئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ شیطان اگرچہ بنی آدم کا ابدی دشمن ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ کامیاب حملہ وہ ہوتا ہے جو وہ دوست اور خیر خواہ کے بھیس میں کرتا ہے۔ وہ اسی بھیس میں آکر وسوسہ اندازی کرتا ہے اور انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ خدا اور رسول نے اس کو جن چیزوں سے روکا ہے اس کی تمام تہذیب و ترقی کا راز اگر ہے تو بس انہی چیزوں کے اختیار کرنے میں ہے۔ آج کے حالات کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ تمام محرمات شریعت کی اباحت کی سب سے بڑی دلیل جو شیطان کے ایجنٹ پیش کرتے ہیں وہ یہی ہے کہ اگر ان چیزوں کے باب میں مذہب کے فوتے پر عمل کیا جائے تو تمام تہذیب و ترقی کا جنازہ نکل جائے گا ؟
ایک شبہ کا ازالہ
اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے یہی مضمون سورة اعراف میں یوں آیا ہے مانھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملیکن اوتکونا من الخالدین (20) (تمہارے رب نے تم دونوں کو صرف اس وجہ سے اس درخت سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے اور زندگی دوام کے مالک نہ بن جائو) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت زیر بحث میں ملک لایبلی (یاسی بادشاہی جس پر کھبی زوال نہ آئے) کے ا لفاظ ہیں اور اعراف میں ان تکونا ملیکن (کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جائو) کے الفاظ ہیں۔ ان دونوں باتوں کے اندر تضاد نہ سہی لیکن فرق تو بہرحلا ہے تو آخر ان میں تطبیق کی کیا شکل ہے ؟ اسی مشکل سے بچنے کے لئے بعض لوگوں نے ملی کن کو ملیکن بکسر لام پڑھا ہے یعنی کہیں تم دونوں بادشاہ نہ بن جائو اور اس طرح انہوں نے ان دونوں آیتوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اول تو اس صورت میں بھی پوری تطبیق نہیں ہوتی ثانیاً ہمارے نزدیک متواتر اور مشہود قرأت صرف مصحف ہی کی قرأت ہے اور ہم غیر متواتر قرأت پر قرآن کی کسی آیت کی تاویل کو صحیح نہیں سمجھتے۔
ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم و حوا کو اپنے ڈھب پر لانے کے لئے ان کو مختلف قسم کی ترغیبات دیں کبھی ان کو فرشتے بن جانے کی امید دلائی اور کبھی ایک لازوال بادشاہی حاصل ہوجانے کی توقع دلائی۔ اس بات کی طرف ہمارا ذہن اس وجہ سے جاتا ہے کہ اعراف میں اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت آدم کو اپنے دام میں لانے کے الئے ابلیس کو بڑی جدوجہد کرنی پڑی۔ اس نے بڑی قسموں اور بڑی اطمینان دہانیوں کے بعد ان کو رام کرین میں کامیابی حاصل کی۔ اعراف کی آت 2 ہ میں فذتھما بغرور کے ا لفاظ ہیں۔ ہم نے وہاں ان کی وضحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کا صحیح مفہم کسی کو درجہ بدرجہ اپنے ڈھب پر لانے یا شیشہ میں اتارنے کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم ابلیس کے ایک ہی فقرے میں اس کے چکمے میں نہیں آگئے بلکہ اس نے مختلف مواقع پیدا کر کے ان کو مختلف قسم کے فریب دیئے ہیاں تک کہ وہ اس کے دام میں پھنس گئے۔ کبھی یہ کہا کہ خدا نے تم کو اس درخت سے اس اندیشہ سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جائو اور کبھی یہ کہا کہ اس وجہ سے اس سے منع کیا ہے کہ تمہیں لازوال بادشاہی نہ حاصل ہوجائے۔ مقصد تو کسی نہ کسی طرح اپنے دام فیرب میں لانا تھا اس وجہ سے جس وقت جو بات بن سکی وہ اس نے بنانے کی کوشش کی۔